انڈس موٹرز کا مالیاتی نتائج کا اعلان، پہلی ششماہی میں 4.8 ارب روپے منافع

166

لاہور: انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 31 دسمبر 2020 تک ختم ہونے والی پہلی ششماہی کے مالی نتائج جاری کر دیے۔

آئی ایم سی کے کمپلیٹلی ناکڈ ڈاؤن (سی کے ڈی) اور کمپلیٹیلی بِلٹ اپ یونٹس (سی بی یو) یونٹس گزشتہ سال کی پہلی ششماہی کے 14453 یونٹس کی فروخت کے مقابلے میں 82 فیصد اضافے سے 26362 یونٹس فروخت ہوئے۔

کمپنی نے جاری مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران 81 فیصد اضافے سے 26383 گاڑیوں کے یونٹس کی پیداوار کی جبکہ گزشتہ سال کی پہلی ششماہی کے دوران کمپنی نے 14555 یونٹس کی پیداوار کی تھی۔ 31 دسمبر 2020 تک ختم ہونے والی ششماہی کے دوران مجموعی آٹو مارکیٹ میں آئی ایم سی کا مارکیٹ شئیر 24.7 فیصد کے قریب رہا۔

زیرِجائزہ ششماہی میں کمپنی کی خالص سیلز ٹرن اوور گزشتہ برس کے 42.78 ارب روپے کے مقابلے میں 79.65 ارب روپے تک بڑھ گئے جبکہ کمپنی کو بعداز ٹیکس 4.8 ارب روپے منافع ہوا، گزشتہ برس کے پہلے چھ ماہ کے دوران کمپنی کو بعداز ٹیکس 2.3 ارب روپے آمدن ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے:

استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے متعلق پالیسی نرم کرنے پر غور، مقامی انڈسڑی کی مخالفت

سات ماہ کے دوران دس ہزار 539 پک اپ گاڑیوں کی فروخت ریکارڈ

پہلی ششماہی کے لیے ٹرن اوور اور آمدن میں اضافے کی وجہ سی کے ڈی اور سی بی یو کے حجم اور کیش فلو بہتر ہونے کی وجہ سے دیگر آمدن میں بھی اضافہ ہوا۔ تاہم، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہونے سے لاگت میں اضافے نے گراس پرافٹ مارجن کو گزشتہ برس کی پہلی ششماہی کے 8.81 فیصد سے کم کر کے 7.55 فیصد تک کر دیا۔

31 دسمبر 2020 تک کی پہلی ششماہی کے ساتھ ساتھ مالی سال 2020-21 کی دوسری سہ ماہی میں بھی کمپنی کی مسافر کار کے شعبے میں اضافہ ہونے سے ٹویوٹا یارس کے مقابلے میں برتر رہی۔ مزید برآں، اکتوبر 2020 میں متعارف کرائی گئی ٹی آر ڈی کو بھی صارفین کی جانب سے پسند کیا گیا۔

کمپنی کی مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران فی شئیر آمدن گزشتہ برس کی پہلی ششماہی کے 29.32 روپے کے مقابلے میں 61.08 روپے رہی۔ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پہلی ششماہی میں 25 روپے فی شئیر عبوری کیش ڈیویڈنڈ کا اعلان کیا جبکہ مالی سال 2019-20 کی پہلی ششماہی میں 6 روپے فی شئیر عبوری کیش ڈیویڈنڈ کا اعلان کیا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here