تین ارب 41 کروڑ ڈالر کی بیرونی امداد سے شعبہ توانائی کے  14 منصوبے جاری

قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں مخدوم خسرو بختیار اور عمر ایوب خان کی متعلقہ اداروں اور محکموں کو توانائی کے شعبہ میں بیرونی معاونت کے منصوبوں پر عمل درآمد تیز کرنے کی ہدایت

181

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار اور وزیر توانائی عمرایوب خان نے متعلقہ اداروں اور محکموں کو توانائی کے شعبہ میں بیرونی معاونت کے منصوبوں پرعمل درآمد تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گزشتہ روز شعبہ توانائی کے بیرونی معاونت سے جاری منصوبوں سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) کا اجلاس وزیر اقتصادی امور خسرو بختیار اور وزیر توانائی عمر ایوب خان کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہوا، اجلا س میں سیکرٹری اقتصادی امور نور احمد خان، وزارت خزانہ اور وزیراعظم آفس کے نمائندوں، صوبائی اور دیگر متعلقہ محکموں کے سربراہان شریک ہوئے۔

اجلاس میں 5 نومبر 2020ء کو ہونے والے این سی سی کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک جیسے شراکت داروں کی معاونت سے ملک بھر میں توانائی کی پیداوار، ترسیل و تقسیم سے متعلق تین ارب 41 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے کل 14 منصوبے جاری ہیں۔

وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار نے بجلی کے شعبہ میں بیرونی معاونت کے منصوبوں میں حائل رکاوٹوں کو دورکرنے کے ضمن میں پاور ڈویژن کے کردارکو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبہ میں اصلاحات، شفاف اور معقول نرخوں پر متبادل توانائی کی پیداوار، پائیدار اور قابل اعتماد ترسیل اور تقسیم کے نظام پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔

وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان نے متعلقہ محکموں اور اداروں کو توانائی کے شعبہ میں بیرونی معاونت کے منصوبوں کی راہ میں حائل بقیہ رکاوٹیں ختم کرنے کیلئے اقدامات کی ہدایت کی تاکہ ان منصوبوں کو جلد از جلد عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاور ڈویژن بجلی کے شعبہ میں بیرونی معاونت کے منصوبوں پر پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لے رہا ہے۔ ان منصوبوں سے کم قیمت پر بجلی کی فراہمی، ترسیلی نظام کی پائیداریت اور ملک میں بجلی کے تقسیم کے نظام میں نمایاں بہتری لانے سمیت اہم سٹریٹجک اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔

دونوں وزراء نے توانائی کے شعبہ میں بیرونی معاونت کے منصوبوں پر عمل درآمد تیز کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ یہ منصوبے ملک کی پائیدار معاشی ترقی کیلئے اہمیت کے حامل ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here