پی اے سی کا یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی دو سالہ کارکردگی کی آڈٹ رپورٹ پیش کرنے کا حکم

یوٹیلٹی سٹورز پر غیرمعیاری اشیاء کی فروخت پر پی اے سی اراکین برہم، ایم ڈی پر تحفظات کا اظہار، عہدے سے فارغ کرنے کا مطالبہ، غیرمعیاری تیل اور گھی کا معاملہ نیب کو بھجوانے کی تجویز

88

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے یوٹیلٹی سٹورز پر غیرمعیاری اشیاء کی فروخت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کارپوریشن کی دو سالہ کارکردگی کے حوالے سے آڈٹ رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

گزشتہ روز پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین رانا تنویر حسین کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا جس میں یوٹیلٹی سٹورز پر غیر معیاری اور ناقص اشیاء کی فروخت سمیت دیگر امور کا جائزہ لیا گیا۔

آڈٹ حکام نے کمیٹی کو کو بتایا کہ 64 ریجنز میں یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کوالٹی اشورنس سرٹیفکیٹ فراہم نہیں کر سکی۔ کارپوریشن ہر ماہ 23 ارب روپے کا کوکنگ آئل اور گھی خریدتی ہے، غیر معیاری مصنوعات کو سٹورز نہیں ہٹایا گیا جس کے باعث قومی خزانے کو 35 کروڑ 30 لاکھ روپے  کا نقصان پہنچا۔

پی اے سی کے چیئرمین رانا تنویر حسین نے کہا کہ کمیٹی نے غیر معیاری تیل اور گھی تلف کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن کارپوریشن نے ہدایات پر عمل کرنے کی بجائے تحقیقات شروع کر دیں، لوگوں کی صحت انتہائی اہم ہے مگر ایم ڈی نے گھی اور تیل فروخت کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ لوگوں کو سستی اور معیاری اشیاء کی فراہمی کیلئے قائم ہوا تھا مگر یہ انسانی صحت سے کھیل رہا ہے، ایسے ادارے کو تو بند کر دینا چاہئے، پنجاب فوڈ اتھارٹی اور کوالٹی اشورنس والوں کو بھی طلب کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے:

مینجنگ ڈائریکٹر یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن پر مالی بے ضابطگیوں کا الزام

یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن خسارے سے نکل کر سب سے بڑا ٹیکس ادا کرنے والا ادارہ بن گیا

کمیٹی ارکان نے ایم ڈی یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تمام خریداریاں پیپرا رولز کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔

کمیٹی کے رکن ریاض فتیانہ نے کہا کہ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہی ہے، علاقائی دفاتر میں کرپشن بہت زیادہ ہے، فرنچائز پیسے لے کر دی جاتی ہیں اور اس ادارے نے لوگوں کی زندگیاں داﺅ پر لگا دی ہیں۔  انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایم ڈی یوٹیلٹی سٹورز عمر لودھی کو ان کے عہدے سے برطرف کیا جائے۔

اس دوران حکومتی رکن ثناء اللہ مستی خیل نے یوٹیلٹی سٹورزکارپوریشن کے حق میں بات کرنا چاہی تو چیئرمین پی اے سی نے انہیں روک دیا۔

اس پر ثناء اللہ مستی خیل نے کہا کہ اب میں آپ کی مرضی کے مطابق تو بات نہیں کر سکتا، اس وجہ سے ثناء اللہ مستی خیل پی اے سی سے احتجاجا واک آﺅٹ کر گئے۔

کمیٹی کے رکن نور عالم خان نے کہا کہ یوٹیلیٹی سٹورز پر پاﺅڈر چینی فروخت کی جا رہی ہے، واضح ہدایات کے باوجود کارپوریشن خریداریاں کر رہی ہے۔

اس موقع پر مینیجنگ ڈائریکٹر یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن نے کہا کہ تمام اشیاء کے سیمپلز لیبارٹری بھجواتے ہیں، پی ایس کیو سی اے وفاقی حکومت کا ادارہ ہے، کوئی بھی غیر معیاری سیمپل ہمارے پاس موجود نہیں، مجھے بے شک ہٹا دیں مگر یکطرفہ کوئی بھی بیان نہ دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس تمام برانڈز کے کوالٹی کنٹرول سرٹیفکیٹس موجود ہیں، سٹورز پر کوئی بھی غیر معیاری تیل اور گھی فروخت نہیں ہوتا، اچھے گھی کے برانڈز موجود ہوتے ہیں۔ کبھی بھی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے احکامات پر عملدرآمد سے گریز نہیں کیا۔

پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اراکین نے غیرمعیاری تیل اور گھی کا معاملہ نیب کو بھجوانے کی تجویز دے دی جبکہ آڈیٹر جنرل کو ہدایت کی کہ تمام غیر معیاری برانڈز کے حوالہ سے رپورٹ ایک ہفتہ میں کمیٹی کو پیش کریں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here