سال 2020ء: مینوفیکچرنگ سیکٹر کے قرضوں کا حجم تین کھرب 37 ارب روپے تک بڑھ گیا

ٹیکسٹائل سیکٹر کے ذمہ واجب الادا قرضوں کا حجم ایک کھرب 12 ارب، کنسٹرکشن سیکٹر 145 ارب، انفارمیشن اینڈ کیمونیکیشن سیکٹر 167.6 ارب، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن سیکٹر 43 ارب، گھر اور گاڑیاں خریدنے کیلئے حاصل کردہ قرضوں کا حجم 783 ارب روپے تک بڑھ گیا

124

اسلام آباد: مینوفیکچرنگ کے پورے شعبہ کے ذمہ واجب الادا قرضوں میں سال 2020ء کے دوران 0.12 کھرب روپے اضافہ ہوا ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق گزشتہ سال 2020ء کے اختتام پر مینو فیکچرنگ سیکٹر کے ذمہ واجب الادا قرضوں کا حجم تین کھرب 37 ارب روپے روپے تک بڑھ گیا جو 31 دسمبر 2019ء کے اختتام پر تین کھرب 25 ارب روپے تھا۔

اس طرح 2019ء کے مقابلہ میں 2020ء کے دوران مینوفیکچرنگ سیکٹر کے ذمہ واجب الادا قرضوں کے حجم میں 0.12 کھرب روپے اضافہ ریکاڈ کیا گیا ہے، یہ وہ قرضے ہیں جو مینوفیکچرنگ سیکٹر سے وابستہ مختلف صنعتوں نے بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں سے حاصل کر رکھے ہیں۔

سٹیٹ بینک کے مطابق 31 دسمبر 2019ء کو ٹیکسٹائل سیکٹر کے ذمہ ایک کھرب تین ارب روپے کے قرضے واجب الادا تھے جو 31 دسمبر 2020ء کو ایک کھرب 12 ارب روپے تک جا پہنچے۔

اسی طرح گزشتہ ایک سال کے دوران تعمیرات کے شعبہ کے ذمہ واجب الادا قرضوں کا حجم 127.6 ارب روپے کے مقابلہ میں 145.2 ارب روپے تک بڑھ گیا ہے۔

گھروں اور گاڑیوں کی خرید کیلئے حاصل کئے گئے قرضوں کے حجم میں بھی اضافہ ہوا ہے اور 2019ء کے اختتام پر قرضوں کا حجم 700 ارب روپے تھا جو 2020ء کے خاتمہ پر 783 ارب روپے تک پہنچ گئے۔

سٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق انفارمیشن و کیمونیکیشن سیکٹر کے ذمہ واجب الادا قرضوں کا حجم بھی 145 ارب روپے کے مقابلہ میں 167.6 ارب روپے تک بڑھ گیا۔

رپورٹ کے مطابق تیل و گیس کی تلاش کے شعبہ کے ذمہ 31 دسمبر 2019ء تک 35.6 ارب روپے کے قرضے واجب الادا تھے تاہم 31 دسمبر 2020ء کو شعبہ کے ذمہ واجب الادا قرضوں کا حجم 43 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here