لمز کا پاکستان میں پہلا کرپٹو کرنسی اکیڈیمک پروگرام متعارف کرانے کا فیصلہ

180

لاہور: لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) نے پاکستان میں پہلی بار بلاک چین، ڈسٹریبیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجی (ڈی ایل ٹی)  اور اس سے منسلک پلیٹ فارمز کے اکیڈیمک پروگرامز متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یونیورسٹی نے کرپٹو کے تعلیمی پروگرامز کے لیے کرپٹو ٹوکنز کو ڈیزائن کرنے کے لیے 670 ملین روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔

اس پیشرفت کی تصدیق لمز کے سابق طالب علم اور سٹیکس (Stacks) کے بانی منیب علی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کی ہے۔

یونیورسٹی میں Hiro جو پہلے بلاک سٹیک پی بی سی کے نام سے بھی جانا جاتا تھا کہ گرانٹ کردہ 670 ملین روپے (4.1 ملین ڈالر) کے برابر پچاس لاکھ STX ٹوکنز استعمال کیے جائیں گے، Hiro کی جانب سے ان ٹوکنز کی فراہمی سے تعلیمی پروگرامز تیار کیے جائیں گے جو فکیلٹی اور طلباء کو بلاک چین، کرپٹو کرنسیز، ڈی ایل ٹی اور کئی ایسے پروجیکٹس پر تحقیق کرنے کے قابل کرے گا۔

منیب نے ٹویٹر پر یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 4.1 ملین ڈالر گرانٹ اس لیے کیونکہ کرپٹوکرنسی کی ویلیو میں گرانٹ جاری کرنے سے پہلے ہی اضافہ ہوا ہے۔

سٹیکس پاکستان کے بانی نے ایک آفیشل بیان میں مزید کہا کہ کرپٹو پر نیا اشتراک نہ صرف لمز کے ساتھ میرے تعلق کو مضبوط کرے گا بلکہ انجنئیرز اور انٹرپرنیورز کی آئندہ جنریشن کو بلاک چین ٹیکنالوجی کی مدد سے آئندہ جنریشن کے انٹرنیٹ کو آرکیٹیکٹ کرنے کے لیے بھی تیار کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف نئی کاروباری ماڈلز قابل ہوں گے بلکہ بلاک چین پر ناول تقسیم کردہ ایپلی کیشنز کا نیا دور شروع ہونے کی بھی توقع ہے۔ سٹیکس پاکستان اس تبدیلی کی بنیاد رکھ رہی ہے اور اس سے پاکستان کو بے حد فائدہ ہو گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here