9 جنوری کو ملک بھر میں بلیک آئوٹ کیوں ہوا تھا؟ رپورٹ سامنے آ گئی

196

اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)نے 9جنوری کو ملک میں بجلی کے ہونے والے بلیک آؤٹ کی رپورٹ جاری کردی۔

پاور ڈویژن نے پارلیمانی پینل کو بتایا ہے کہ گزشتہ ماہ ملک بھر میں ہونے والے بلیک آؤٹ کی تحقیقات کرنے والی ایک انکوائری کمیٹی نے گدو تھرمل پاور پلانٹ کے عہدیداروں کو بلیک آؤٹ کا ذمہ دار قرار دے دیا۔

سیکرٹری پاور علی رضا بھٹہ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے ارکان کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ “مرمتی کام کے دوران کچھ افسران کے ایس او پیز پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے خرابی پیدا ہوئی، انسانی غلطی کی وجہ سے گدو پاور سٹیشن پر مسئلہ پیدا ہوا اور ایک غلطی سے پورا توانائی کا نظام ہی ٹرپ کر گیا”۔

انہوں نے کہا کہ “غلطی کی وجہ سے گدو تھرمل پاور پلانٹ ٹرپ کر گیا اور پورے ملک میں بلیک آؤٹ ہو گیا۔ بلیک آؤٹ کے وقت ملک میں بجلی کی کھپت 10 ہزار میگاواٹ تھی”۔

نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے پاور سسٹم کو رات گئے گدوتھرمل پاور پلانٹ کے ٹرپنگ کی وجہ سے بجلی کے نظام کو بڑی خرابی کا سامنا کرنا پڑا اور پورا ملک اندھیرے میں ڈوبا رہا۔

شہریوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر ملک بھر میں رات گئے کراچی، اسلام آباد، لاہور اور ملتان کے ساتھ ساتھ چھوٹے قصبوں اور شہروں میں بلیک آؤٹ رپورٹ کیا گیا تھا۔

بلیک آؤٹ کے نتیجے میں ملک بھر میں انٹرنیٹ کنیکٹویٹی کا نظام بھی متاثر ہوا تھا۔ پاور سیکرٹری کے مطابق پاور ڈویژن کو بلیک آؤٹ پر تین رپورٹس موصول ہوئیں جنہیں وفاقی کابینہ کو جمع کرایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ گدو تھرمل پاور پلانٹ کے افسران سے قطع نظر انکوائری کمیٹی نے این ٹی ڈی سی سسٹم کو بہتر نہ کرنے والے لوگوں کو بھی بلیک آؤٹ کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ “انکوائری کمیٹی نے ایسے اقدامات اٹھانے کی سفارش کی کہ جس سے ایک پلانٹ کے ٹرپ کرجانے سے پورا نظام ہی نہ ٹرپ کرجائے”۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here