ملازمین کی تنخواہوں پر نظرثانی کیلئے بجٹ سے قبل پے اینڈ پنشن کمیشن سے سفارشات طلب

چھ لاکھ 23 ہزار 215 سرکاری ملازمین میں سے دو لاکھ 96 ہزار 470 ایسے ہیں جنہوں نے کبھی بھی اضافی الائونس وصول نہیں کیا، یہ الائونس پے اینڈ پنشن کمیشن کی حتمی سفارشات آنے تک عبوری بنیادوں پر دیا گیا ہے

209

اسلام آباد: وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے تمام سرکاری ملازمین (سول و مسلح افواج) کی تنخواہوں پر نظرثانی کیلئے پے اینڈ پنشن کمیشن کو آئندہ بجٹ سے قبل اپنی سفارشات دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزارت خزانہ کے ترجمان نے میڈیا کے بعض حصوں میں شائع آرٹیکل کے حوالہ سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابینہ نے مساوی تنخواہ یا بنیادی تنخواہ کے برابر یا اس سے 100 فیصد زیادہ کارگردگی الائونس نہ لینے والے گریڈ ایک سے گریڈ 19 تک کے وفاقی ملازمین کیلئے یکم مارچ 2021ء سے 2017ء کے بنیادی سکیل کی بنیاد پر 25 فیصد ایڈہاک ریلیف الائونس کی منظوری دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: 

حکومت کا 18 وفاقی محکموں میں تنخواہیں نہ بڑھانے کا فیصلہ

گریڈ ایک سے 19 کے وفاقی ملازمین کو تنخواہوں میں 25 فیصد ایڈہاک ریلیف مل گیا

ترجمان نے کہا کہ وفاقی حکومت کے کئی ادارے اور محکمے ایسے ہیں جہاں پہلے ہی 100 فیصد یا بنیادی تنخواہ کے مساوی یا 100 فیصد سے زیادہ اضافی الائونس کی اجازت دی گئی ہے۔ ایڈہاک ریلیف الاﺅنس کا مقصد 100 فیصد اضافی الائونس یا بنیادی تنخواہ لینے اور نہ لینے والے ملازمین کے درمیان تفریق کو ختم کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کل چھ لاکھ 23 ہزار 215 سرکاری ملازمین میں سے دو لاکھ 96 ہزار 470 ملازمین ایسے ہیں جنہوں نے کبھی بھی 100 فیصد یا بنیادی تنخواہ کے مساوی یا اس سے 100 فیصد سے زیادہ اضافی الائونس وصول نہیں کیا، یہ الائونس پے اینڈ پنشن کمیشن کی حتمی سفارشات آنے تک عبوری بنیادوں پر دیا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ وفاقی حکومت کے تمام سرکاری ملازمین (سول و مسلح افواج) کی تنخواہوں پر نظرثانی کیلئے پے اینڈ پنشن کمیشن کو آئندہ بجٹ سے قبل اپنی سفارشات دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزارت خزانہ کے ترجمان نے بتایا کہ پے اینڈ پنشن کمیشن کو پنشن کے موجودہ نظام کا جائزہ لینے اور اس حوالہ سے سفارشات مرتب کرنے کیلئے بھی کہا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here