محمد علی سدپارہ انسٹی ٹیوٹ فار ایڈونچر سپورٹس کے قیام کی منظوری

گلگت بلتستان کابینہ کا اجلاس، محمد علی سدپارہ کی بیوہ کو 30 لاکھ روپے امداد دینے، بیٹے ساجد سدپارہ کو بین الاقوامی معیار کی تربیت دلوانے اور ملازمت فراہم کرنے کا اعلان

216

گلگت: گلگت بلتستان کابینہ نے محمد علی سدپارہ کے نام سے منصوب محمد علی سدپارہ انسٹی ٹیوٹ فار ایڈونچر سپورٹس، مائونٹینیرنگ اینڈ راک کلائمبنگ کے قیام کی منظوری دے دی۔

گلگت بلتستان کابینہ کا اجلاس وزیر اعلیٰ خالد خورشید کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں محمد علی سدپارہ کی خدمات کے اعتراف میں ان کے نام پر انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے اور ان کے بیٹے ساجد سدپارہ کو محکمہ سیاحت و کھیل گلگت بلتستان میں ملازمت دینے کا اعلان کیا گیا۔

کابینہ نے محمد علی سدپارہ کو اعلیٰ سول ایواڈ کیلئے نامزد کیا جبکہ ان کی بیوہ کو 30 لاکھ روپے مالی امداد دینے کی منظوری بھی دی۔

اس موقع پر وزیراعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا کہ محمد علی سدپارہ نے محدود وسائل اور خطرات کے باوجود کوہ پیمائی کے شعبے کا انتخاب کیا اور پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا۔

انہوں نے کہا کہ محمد علی سدپارہ کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا اور کوہ پیمائی کو فروغ دینے اور کوہ پیمائوں کی فلاح وبہبود کیلئے پالیسی بنائی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد علی سدپارہ کو کوہ پیمائی میں بین الاقوامی سطح کی تربیت دلوائی جائے گی جس کے بعد وہ اپنے والد کے نام پر قائم انسٹی ٹیوٹ میں کوہ پیمائی کی تربیت دیں گے۔

خالد خورشید نے کہا کہ کوہ پیمائی سے وابستہ ایسے تمام گم نام ہیروز جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود گلگت بلتستان کا نام روشن کیا ان سب کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

کابینہ اجلاس میں محمد علی سدپارہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بلند درجات کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی جبکہ کابینہ کی جانب سے وزیر خزانہ جاوید علی منوا، مشیر قانون سہیل عباس اور مشیر خوراک شمس لون پر مشتمل کمیٹی محمد علی سدپارہ کے گھر جا کر ان کے ورثا سے اظہار ہمدردی کریں گے، بہت جلد وزیراعلی گلگت بلتستان خود بھی محمد علی سدپارہ کے گھر جائیں گے اور ان کے خاندان سے اظہار تعزیت کریں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے کوہ پیما محمد علی سدپارہ، چلی کے جان پابلو موہر اور آئس لینڈ کے جان اسنوری موسم سرما کے دوران کے-2 کی چوٹی سر کرنے کی مہم کے دوران 5 فروری کو لاپتا ہو گئے تھے۔

بعد ازاں کئی دنوں کی تلاش کے بعد 18 فروری کو گلگت بلتستان کے حکام نے علی سدپارہ سمیت دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو موسمِ سرما میں سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہونے والے تینوں کوہ پیماؤں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی تلاش کے لیے جاری کارروائی ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here