سال 2020ء: الائیڈ بینک کی بعد از ٹیکس آمدنی کا حجم 18 ارب روپے تک بڑھ گیا

مالیاتی نتائج کے مطابق 2019ء میں اے بی ایل کی فی حصص آمدن 12.32 روپے رہی تھی جو سال 2020ء میں 15.75 روپے فی حصص تک پہنچ گئی

229

اسلام آباد: الائیڈ بینک لمیٹڈ (اے بی ایل) کی بعد از ٹیکس آمدنی میں سال 2020ء کے دوران 28 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اے بی ایل کے مالیاتی نتائج کے مطابق سال 2019ء کے مقابلہ میں سال 2020ء کے دوران بینک کی قبل از ٹیکس آمدن 22 فیصد اضافہ سے 24 ارب 24 کروڑ 20 لاکھ روپے کے مقابلہ میں 29 ارب 51 کروڑ 50 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔

رپورٹ کے مطابق الائیڈ بینک کی خالص آمدن میں 28 فیصد اضافہ ہوا اور بعد از ٹیکس آمدنی کا حجم 18 ارب دو کروڑ 90 لاکھ روپے تک بڑھ گیا۔ 2019ء میں اے بی ایل کی فی حصص آمدن 12.32 روپے رہی تھی جبکہ سال 2020ء کے لیے بینک کی فی حصص آمدن 15.75 روپے تک پہنچ گئی۔

الائیڈ بینک کا کہنا ہے کہ اس نے سال 2020ء کے دوران صارفین کی متنوع ضروریات کی تکمیل کیلئے ملک بھر میں ای بینکنگ اور روایتی بینکاری کی معیاری فراہمی کے لیے اقدامات کئے ہیں۔

بینک کا کہنا ہے کہ سال 2020ء کے دوران مجموعی برانچز کی تعداد 1402 تک بڑھ گئی جن میں روایتی بینکنگ سہولیات فراہم کرنے والی 1279 برانچیں جبکہ اسلامی بینکاری کی خدمات فراہم کرنے والی 117 برانچز کے علاوہ 6 ڈیجیٹل برانچز بھی شامل ہیں۔

مزید برآں اسلامی بینکنگ کے شعبہ کے فروغ کیلئے اے بی ایل نے دوران سال روایتی بینکاری 85 مختلف برانچوں میں اسلامی بینکاری کی خصوصی سہولیات فراہم کرنے کیلئے بھی اقدامات کئے ہیں۔

مزید برآں 31 دسمبر 2020ء کو ختم ہونے والے سال میں اے بی ایل کی اے ٹی ایمز کی تعداد 1558 تک بڑھ گئی جن میں سے 1222 آن سائیٹ اور 33 آف سائیٹ اے ٹی ایمز کے علاوہ تین موبائل بینکنگ کے یونٹس بھی شامل ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here