وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر نے سوات ہائیڈروپاور پروجیکٹ کے سربراہ کو عہدے سے ہٹا دیا

282

پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے بجلی و توانائی حمایت اللہ خان ضلع سوات میں 84 میگاواٹ کے مٹلتان ہائیڈروپاور پروجیکٹ پر کام میں سستی کے باعث ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو معطل کر دیا۔

ایک بیان کے مطابق مشیر توانائی نےسات دن کے اندر منصوبے میں غیرضروری تاخیر کے پیچھے وجوہات جاننے کے لیے انکوائری رپورٹ طلب کی ہے۔ حمایت اللہ خان نے ضلع سوات میں جاری توانائی کے منصوبوں کا سروے کرنے کے دوران یہ ہدایات جاری کی تھیں۔

اس موقع پر سیکرٹری بجلی و توانائی محمد زبیر خان اور چیف ایگزیکٹو پی ای ڈی او انجنئیر محمد نعیم خان ان کے ہمراہ تھے۔

زیرِ تعمیر 84 میگاواٹ کے مٹلتان پروجیکٹ کے معائنے کے دوران وزیراعلیٰ کے مشیر نے چار ماہ قبل دی گئی ہدایات پر عملدرآمد نہ کرنے کے باعث پروجیکٹ ڈائریکٹر پر غصے کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیے:

ای سی سی نے بجلی بلوں میں نیلم جہلم سرچارج فوری منسوخ کرنے کی منظوری دیدی

ہائیڈرو پاور پلانٹس کی فنڈنگ کیلئے 50 کروڑ ڈالر کے گرین بانڈز جاری کرنے کا منصوبہ

منصوبے پر کام کی رفتار سست ہونے سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت توانائی کے اہم منصوبے کی تکمیل میں کسی بھی کوتاہی کو برداشت نہیں کرے گی۔

اس دوران، مشیر برائے بجلی و توانائی نے 88میگاواٹ گبرال-کالام ہائیڈروپاور پروجیکٹ کا بھی دورہ کیا، یہ منصوبہ عالمی بینک کی مالی اعانت سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر کمیشنر مالاکنڈ نے حمایت اللہ خان کو بتایا کہ منصوبےکے لیے زمین حاصل کرنے سے متعلق مسائل کو جلد حل کرکے عملی کام کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ سے پاور ہاؤس کالونی پر تعمیراتی کام کا آغاز ہو گا۔

بعدازاں، وزیراعلیٰ کے مشیر نے سوات کے علاقے مدینہ میں 0.9 میگاواٹ کے منی مائیکرو ہائیڈل سٹیشن کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے کی کامیاب تکمیل کے بعد دوسرے مرحلے میں 672 مزید منی مائیکرو ہائیڈل سٹیشنز کی تعمیر شروع کی جائے گی۔

انہوں نے بحرین میں پہلے سے مکمل ہونے والے 36میگاواٹ درال کھوار پاور پلانٹ کا معائنہ بھی کیا۔  آخرمیں حمایت اللہ خان نے بدنی اور درئی کے علاقوں میں واقع سولر پاور پلانٹس کا دورہ بھی کیا، یہ پلانٹس طبی مراکز کو 24 گھنٹے سستی بجلی فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے چھوٹے منصوبے کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس پروجیکٹ سے پیدا ہونے والی بجلی کو نیشنل گرڈ میں شامل کرنے کی سخت کوشش کر رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here