سات ماہ میں تیل کا درآمدی بل 20 فیصد کمی سے پانچ ارب 64 کروڑ ڈالر رہا

109

اسلام آباد: مالی سال 2020-21ء کے پہلے سات ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران تیل کے درآمدی بل میں سالانہ اعتبار سے 20.90 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ادارہ برائے شماریات پاکستان (پی بی ایس) کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا جنوری 2020-21ء کے دوران تیل کی درآمدات پانچ ارب 64 کروڑ 7 لاکھ ڈالر ڈالر ریکارڈ کی گئیں جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں تیل کی درآمدات کا حجم سات ارب 13 کروڑ 14 لاکھ ڈالر رہا تھا۔

جن اشیاء نے درآمدی بل کی کمی میں حصہ ڈالا ان میں پیٹرولیم مصنوعات بھی شامل ہیں جن کی درآمدات میں 15.33 فیصد کمی آئی، جاری مالی سال کے دوران یہ درآمدات دو ارب 54 کروڑ 96 لاکھ 74 ہزار ڈالر رہیں جبکہ گزشتہ برس کے اسی عرصے کےدوران ان درآمدات کا حجم تین ارب ایک کروڑ 11 لاکھ 54 ہزار ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔

اسی طرح سات ماہ میں ریفائنڈ پٹرول کی درآمدات 26 فیصد کمی سے دو ارب آٹھ کروڑ 42 لاکھ 24 ہزار ڈالر سے کم ہو کر ایک ارب 54 کروڑ 24 لاکھ ڈالر پر آ گئیں جبکہ قدرتی گیس (لیکویفائیڈ) کی درآمدات میں 31.07 فیصد کمی آئی جو ایک ارب 85 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر ایک ارب 27 کروڑ 52 لاکھ ڈالر پر رہیں۔

دوسری جانب، پیٹرولیم گیس (لیکویفائیڈ) کی درآمدات 18 کروڑ 58 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 27 کروڑ 33 لاکھ ڈالر تک جا پہنچیں جن میں 47.12 فیصد کا اضافہ ہوا۔

دیگر تمام تیل کی مصنوعات کی درآمدات میں 57.89 فیصد کمی آئی جو 0.190 ملین ڈالر سے کم ہو کر 0.080 ملین ڈالر رہیں۔

اعدادوشمار کے مطابق جنوری 2021ء میں سالانہ اعتبار سے تیل کا درآمدی بل جنوری 2020ء کے 98 کروڑ 92 لاکھ 25 ہزار ڈالر کے مقابلے میں 12.13 فیصد کمی سے 86 کروڑ 92 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

تاہم دسمبر 2020 کے 82 کروڑ 48 لاکھ 62 ہزار ڈالر کی پیٹرولیم مصنوعات کے درآمدی بل کے مقابلے میں جنوری 2021ء کے دوران مذکورہ درآمدی بل میں 5.39 فیصد اضافہ ہوا۔

 

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here