ناسا کی ’پرزیورینس روور‘ کی سرخ سیارے پر کامیاب لینڈنگ، تصاویر بھیج دیں

199

کیلیفورنیا: امریکی خلائی ادارے ناسا کی پرزیورینس روور (Perseverance rover) سرخ سیارے کے خطِ استوا کے قریب جیزیرو (Jezero) نامی ایک گڑھے میں کامیابی سے لینڈ کر گئی ہے اور نے پہلی تصاویر بھی بھیج دی ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ریاست کیلیفورنیا میں ناسا کے مشن کنٹرول میں موجود انجینئرز نے پرزیورینس روور کی کامیاب لینڈنگ کی تصدیق کی ہے، چھ پہیوں والا یہ روبوٹ اب کم از کم دو سال تک اس گڑھے کے پتھروں میں ڈرلنگ کر کے ماضی میں یہاں زندگی کی موجودگی کے ثبوت اکٹھے کرے گا۔

’پرزیورینس روور‘ کی بھیجی گئی تصاویر

جیزیرو کے بارے میں خیال ہے کہ اس میں اربوں سال قبل ایک بہت بڑی جھیل موجود تھی اور جہاں پانی موجود ہو وہاں زندگی کی موجودگی کا امکان بھی موجود ہوتا ہے۔ مریخ سے پتھروں کے یہ نمونے 2030ء کی دہائی میں زمین پر لائے جائیں گے، لینڈنگ کے بعد اس خلائی گاڑی نے سیارہ مریخ سے اپنی پہلی تصاویر بھی ٹویٹ کر دی ہیں۔

مشن کنٹرولرز کو پرزیورینس کی لینڈنگ اور محفوظ ہونے کا سگنل عالمی وقت کے مطابق رات 8 بج کر 55 منٹ پر موصول ہوا۔ یہ ناسا کی جانب سے مریخ پر اتارا گیا ایک ٹن وزنی دوسرا روور ہے۔

اگلے چند ہفتوں میں انجینئرز اس روور کے مختلف سسٹمز چیک کریں گے کہ کہیں انہیں لینڈنگ کے مشکل حالات سے نقصان تو نہیں پہنچا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے گردوپیش کا جائزہ لینے کیلئے یہ کئی تصاویر زمین پر واپس بھیجے گا۔

ناسا کے چیف انجینئر ایڈم سٹیلنر ایک ایسا روبوٹ بنانا چاہتے تھے جو کیوروسٹی سے زیادہ تیز ہو۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مریخ کی سطح پر نوکیلے پتھر (وینٹی فیکٹس) ہیں جن سے کیوروسٹی کے پہیوں کو نقصان پہنچا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پرزیویرنس کے چلنے کا طریقہ بہتر ہے اور اس کے پہیے مضبوط ہیں، یہ نوکیلے پتھروں اور ریت پر بھی اچھی کارکردگی دکھائیں گے اور اس بار مریخ کی بہتر تصاویر اور ویڈیو دیکھی جا سکیں گی۔

ناسا کے اس مشن پر 20 سے زیادہ کیمرے اور دو مائیکروفون ہیں۔ دو کیمرے ایک چھوٹے ہیلی کاپٹر پر ہیں جو مریخ کی ویران آب و ہوا میں اڑان بھرنے کی کوشش کریں گے۔

’پرزیورینس روور‘ کی مریخ پر لینڈنگ کے بعد ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ کو سرخ رنگ میں روشن کیا گیا ہے

1970ء کی دہائی میں وائکنگ لینڈر کے بعد یہ مریخ پر ناسا کا پہلا مشن ہے جو زندگی کے آثار ڈھونڈے گا۔ 2026 میں ایک اور چھوٹا روور لانچ کیا جائے گا جو جیزیرو کے قریب پہنچے گا اور پرزیویرنس کے اکٹھے کردہ نمونے حاصل کر لے گا۔

انہیں مریخ کے مدار پر بھیجا جائے گا اور ایک مصنوعی سیارے کے ذریعے واپس لایا جائے گا جس کے بعد ناسا اس کی کڑی جانچ کرے گا۔

اس طویل المدتی منصوبے کا مقصد خلابازوں کو مریخ پر پہنچانا ہے۔ پرزیویرنس ایسے تجربات کرے گا جس سے دیکھا جائے گا کہ آیا کہ مریخ پر سانس لینے لائق آکسیجن پیدا کی جا سکتی ہے یا نہیں کیونکہ اس سیارے کے ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کثرت پائی جاتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here