سات ماہ میں استعمال شدہ کاروں کی درآمد میں 166 فیصد اضافہ

242

لاہور: مالی سال 2020-21 کے پہلے سات ماہ کے دوران مقامی گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافے اور دیگر وجوہات کی بناء پر استعمال شدہ اور پرانی گاڑیوں کی درآمد میں 166 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ادارہ برائے شماریات پاکستان (پی بی ایس) کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق مالی سال کے پہلے سات ماہ جولائی تا جنوری کے دوران استعمال شدہ اور پرانی گاڑیوں کی درآمد کیلئے پاکستانیوں نے 11 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ صرف کیا جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے دوران یہ حجم چار کروڑ 36 لاکھ ڈالر رہا تھا۔

پاکستان کسٹمز نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں اضافے کی وجہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کیسز میں کمی اور وبا کے خلاف ویکسی نیشن کے آغاز کے پیش نظر سفری پابندیوں میں نرمی کو قرار دیا ہے۔

پاکستان کی درآمدی پالیسی کے مطابق ہر شخص انفرادی طور پر خاص شرح کے ڈیوٹی اور ٹیکسز کی ادائیگی کے ذریعے نئی کار بیرون ملک سے منگوا سکتا ہے تاہم گاڑیوں کی کمرشل درآمدات کی اجازت نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

سات ماہ کے دوران پاکستان میں 81 ہزار 569 کاریں فروخت

سات ماہ کے دوران دس ہزار 539 پک اپ گاڑیوں کی فروخت ریکارڈ

دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں کاریں مہنگی کیوں ہیں؟

بیرونِ ممالک رہائش پذیر پاکستانیوں کو سہولیات دینے کے لیے مختلف سکیموں کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی اجازت ہے، اوورسیز پاکستانی پرسنل بیگیج، رہائش کی منتقلی یا گفٹ سکیم کے تحت گاڑی پاکستان لا سکتے ہیں۔

پاکستان کسٹمز کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی شہریوں سمیت دوہری شہریت کے حامل پاکستانی پرسنل بیگیج، گفٹ سکیم اور رہائش منتقلی کی تین سکیموں کے تحت استعمال شدہ اور پرانی گاڑیاں پاکستان میں درآمد کر سکتے ہیں، ان تین سکیموں کے تحت تین اور پانچ سال تک پرانی گاڑیاں درآمد کی جا سکتی ہیں۔

ان سکیموں کے تحت ٹیکس اور ڈیوٹی کا اسٹرکچر طے شدہ ہی برقرار رہے گا، موٹر سائیکلز اور سکوٹرز کو بھی رہائش منتقلی کی سکیم کے تحت ہی درآمد کیا جاسکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here