سال 2020ء: کھاد کی فروخت میں کمی کے باوجود اینگرو فرٹیلائزرز کا منافع 18 ارب ریکارڈ

189

اسلام آبا: اینگرو فرٹیلائزرز کی خالص آمدن میں گزشتہ سال 2020ء کے دوران 7.78 فیصد اضافے سے 18.133 ارب روپے تک بڑھ گئی۔

ٹارس سیکیورٹیز کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق 31 دسمبر 2020ء کو ختم ہونے والے گزشتہ سال کیلئے اینگرو فرٹیلائزر کی خالص آمدنی 18.133 ارب روپے تک بڑھ گئی جبکہ 31 دسمبر 2019ء کو ختم ہونے والے کلینڈر سال میں اینگرو فرٹیلائزرز نے 16.87 ارب روپے خالص منافع کمایا تھا۔

اس طرح سال 2019 کے مقابلہ میں 2020 کے دوران کمپنی کی خالص آمدنی میں 1.263 ارب روپے یعنی 7.78 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کھاد کی مقامی مارکیٹ کے پھیلائو میں اضافہ اور گیس کی قیمت سمیت پیداواری اخراجات میں کمی کے نتیجہ میں کمپنی کی خالص آمدنی بڑھی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2019ء کیلئے اینگرو فرٹیلائزرز کی فی حصص آمدنی 12.64 روپے رہی تھی جبکہ سال 2020ء میں کمپنی کی فی حصص آمدن بھی 13.58 روپے تک بڑھ گئی۔

خالص آمدن میں اضافہ کے نتیجہ میں کمپنی نے اپنے حصہ داروں کیلئے چار روپے فی حصص کے حتمی کیش ڈیوڈنڈ کا اعلان کیا ہے جو قبل ازیں شیئر ہولڈرز کو ادا کیے گئے 9 روپے فی حصص کے وسط مدتی ڈیوڈنڈ کے علاوہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2020ء کے دوران کمپنی کے سیلز ریونیو میں 12.78 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور اس دوران سیلز ریونیو کا حجم 105.84 ارب روپے تک کم ہو گیا جبکہ 2019ء کیلئے اینگرو فرٹیلائزرز کا سیلز ریونیو 121.354 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔

سیلز ریونیو میں کمی کے بنیادی اسباب میں یوریا اور ڈی اے پی کھاد کی فروخت میں بالترتیب 10 اور 69 فیصد کمی جبکہ یوریا کھاد کی قیمت میں ہونے والی 16 فیصد کمی شامل ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here