غیرقانونی بوسٹرز سے موبائل سگنلز میں خلل، پی ٹی اے کی درآمد روکنے کی درخواست

245

اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے وفاقی بورڈ برائے ریونیو (ایف بی آر) سے جی ایس ایم بوسٹرز کی غیرقانونی درآمد روکنے کی درخواست کر دی۔

غیرقانونی درآمد کردہ بوسٹرز موبائل کمپنیوں کی براڈبینڈز فریکوینسی میں مداخلت کا باعث بننے کے علاوہ موبائل سروسز یعنی وائس اور ایس ایم ایس کے معیار میں بھی خلل ڈال رہے تھے۔

پی ٹی اے کی جانب سے ایف بی آر کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ ایکسپرینس، آپریٹرز سے شکایات اور فریکوینسی ایلوکیشن بورڈ کی جانب سے متبادل فیلڈ مانیٹرنگ کے ذریعے یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ عوام کی جانب سے غیرمعیاری جی ایس ایم بوسٹرز/ایمپلی فائرز/ریپیٹرز کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔ صارفین کے احاطے میں ایسے آلات کی تنصیب کی مجاز صرف لائسنس یافتہ سیلولر موبائل آپریٹرز (سی ایم اوز) ہیں”۔

پی ٹی اے نے کہا ہے کہ نصب کی گئی زیادہ تر جی ایس ایم ایمپلی فائرز چین کی تیار کردہ ہیں جن پر مینوفیکچررز اور ماڈل نمبرز چسپاں نہیں ہوتے۔

پی ٹی اے کو ان علاقوں میں نصب کیے گئے غیرمعیاری جی ایس ایم ایمپلی فائرز کی وجہ سے موبائل سگنلز ٹھیک طرح سے نہ موصول ہونے پر 25 فیصد شکایات کی گئیں اور سی ایم اوز کے پی ٹی اے کو ان شکایات سے متعلق آگاہ کرنے کے بعد ایک خط بھی لکھا گیا جس میں سی ایم اوز نے کہا کہ مذکورہ غیرقانونی آلات آن لائن فروخت کیے جا رہے ہیں اور ان کی خریدوفروخت کسٹم کلئیرنس کے بغیر ہو رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here