میڈیا کمپنیوں کو ادائیگی سے انکار، فیس بک نے آسٹریلیا میں نیوز شئیرنگ پر پابندی لگا دی

101

کینبرا: فیس بک نے آسٹریلیا میں اپنے پلیٹ فارم پر خبریں شئیر کرنے پر پابندی عائد کر دی۔

یہ پابندی اس قانون کی مخالفت کے نتیجے میں لگائی گئی جس کے تحت آسٹریلوی حکومت کو فیس بک کو پابند کرنا چاہتی ہے کہ وہ اپن پلیٹ فارم پر شائع ہونے والی خبروں اور آرٹیکلز کے پبلشرز کو ادائیگی کرے۔

آسٹریلوی حکومت نے دسمبر 2020ء میں مذکورہ قانون پر مبنی بل پیش کیا تھا جس کے مطابق فیس بک اور گوگل سمیت دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں پابند کیا گیا کہ وہ نشریاتی اداروں کو رقم فراہم کریں۔

حکومت نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انٹرنیٹ کمپنیوں کی وجہ سے میڈیا کی کمائی میں نمایاں کمی آئی ہے، اس لیے ایسی ٹیکنالوجی کمپنیاں میڈیا اداروں کو ادائیگیوں کی پابند ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیے:

فیس بک کا کچھ ممالک میں سیاسی کانٹینٹ عارضی طور پر کم کرنے کا فیصلہ

مائیکروسافٹ کی میڈیا اداروں کو ادائیگیوں کی حمایت، گوگل اور فیس بک کی مخالفت

غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مذکورہ قانون پر اپنے ردعمل میں فیس بک سمیت دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کا کہنا تھا کہ اس طرح تو پوری دنیا میں ایک مثال قائم ہو جائے گی جو ان کے بزنس ماڈل کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے گی، فیس بک نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خبروں کی شیئرنگ پر ہی پابندی عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فیس بک کے اس فیصلے کے بعد کورونا وائرس کی وبا سے متعلق آگاہی، جنگلات میں لگنے والی آگ اور طوفان سے متعلق کئی ہنگامی خدمات فراہم کرنے والے ادارے اور حکومتی پیجز بھی اس پابندی کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق فیس بک کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان کی جانب سے کیا جانے والا اقدام حکومتی پیجز پر لاگو نہیں ہو گا اور کمپنی ان صفحات کو بحال کر دے گی جو نادانستہ طور پر متاثر ہوئے۔

آسٹریلیا میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے ڈائریکٹر الین پئیرسن نے اس پابندی کو ‘خطرناک’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پورے ملک کو اہم معلومات تک رسائی سے روکنا غیرذمہ دارانہ عمل ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گوگل کا آسٹریلوی بل کے حوالے سے کہنا تھا کہ اگر ملک میں اس قانون پر عمل درآمد ہوا تو اُن کے پاس اپنی سروس بند کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ تاہم صرف مائیکروسافٹ ایسی کمپنی تھی جس نے میڈیا اداروں کو ادائیگیاں کرنے کی حامی بھری تھی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here