پاکستان میں کینسنو بائیو ویکسین کی لائسنسنگ اور مارکیٹنگ کی منظوری

کیسینو بائیو ویکسین کے کلینیکل ٹرائلز کے دوران ویکسین کی افادیت کی شرح 65.7 فیصد رہی اور یہ شدید بیماری کی روک تھام میں 90.98 فیصد کارآمد پائی گئی

241

اسلام آباد: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے کینسنو بائیو ریکومبیننٹ کووڈ- 19 ویکسین (Ad5-nCoV) کے ہنگامی استعمال کی منظوری دے دی ہے اور عوام کیلئے اس کی مارکیٹنگ نجی شعبہ کے ذریعہ کی جائے گی۔

ڈریپ حکام کے مطابق  انڈیپینڈنٹ ڈیٹا مانیٹرنگ کمیٹی کے ذریعہ وزارت صحت کی جانب سے کینسنو بائیو کے تیسرے مرحلے کے کامیاب کلینیکل ٹرائلز کے بعد یہ منظوری دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیسرے مرحلے کے ٹرائلز میں کینسنو بائیو کے پہلے سے طے شدہ بنیادی افادیت کے معیار کو کامیابی کے ساتھ پورا کیا گیا، ویکسین سے متعلق کوئی منفی اثرات نہیں تھے اور اسی وجہ سے انڈی پینڈنٹ ڈیٹا مانیٹرنگ کمیٹی کے ذریعہ کینسنو بائیو کے کلینیکل ٹرائل کو جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

نرخ مقرر کیے بغیر نجی کمپنیوں کو کورونا ویکسین درآمد کرنے کی اجازت

جون تک پاکستان کو ویکسین کی ایک کروڑ 72 لاکھ خوراکیں ملنے کا امکان

کیسینو بائیو ویکسین کے کلینیکل ٹرائلز کے دوران ویکسین کی افادیت کی شرح 65.7 فیصد تھی اور یہ شدید بیماری کی روک تھام میں 90.98 فیصد کارآمد تھی۔ دنیا کے معروف ڈرگ ریگولیٹرز اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ایک ویکسین کے کم سے کم 50 فیصد تحفظ کی شرح کو موثر سمجھتے ہیں۔

مذکورہ کلینیکل ٹرائل 22 ستمبر 2020ء کو پاکستان میں شروع کیا گیا تھا۔ بعد میں اس مطالعہ کو میکسیکو، روس، ارجنٹائن اور چلی میں کیا گیا۔ کلینیکل ٹرائل کا کل ہدف چالیس ہزار رضاکارہیں جن میں پاکستان کے ساڑھے 17 ہزر رضاکار شامل ہیں، اور اس ویکسین کے ٹرائل تین براعظموں کے پانچ ممالک میں کیے جا رہے ہیں۔

کورونا وائرس سے بچائو کی اس ویکسین کے ٹرائلز پاکستان کے پانچ مشہور طبی تحقیقی مراکز میں کیے جا رہے ہیں جن میں آغا خان یونیورسٹی ہسپتال، انڈس ہسپتال، شوکت خانم میموریل ہسپتال لاہور، یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور اور شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد شامل ہیں۔

چین کی کینسنو بائیو نے میکسیکو کو ساڑھے تین کروڑ خوراکیں سپلائی کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ ملائیشیا میں ساڑھے تین لاکھ خوراکیں حاصل کرنے کے لئے بات چیت جاری ہے۔

جون 2020ء میں چین میں ہنگامی استعمال کی منظوری کے بعد یہ ویکسین چین نے اپنی فوج کو دی تھی، پاکستان میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ویکسین کو بھرنے اور لیبل لگانے کے منصوبے پہلے سے شروع کیے گئے ہیں  جس سے نہ صرف دستیابی میں تیزی آئے گی بلکہ اخراجات میں بھی کافی کمی واقع ہوگی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here