’عدالتیں ٹیکنالوجی سے متعلق کیس سننا چھوڑ دیں‘

ماضی میں عدالتی فیصلوں سے عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے تعلقات متاثر ہوئے، سوشل میڈیا کے بڑے نیٹ ورک انڈیا منتقل ہو گئے، عدالتیں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتیں تو ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت سے اہداف حاصل کر چکے ہوتے: فواد چوہدری

375

راولپنڈی: وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ماضی میں عدالتی فیصلوں سے بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے تعلقات متاثر ہوئے، اگرعدالتیں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتیں تو سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ہم بہت سے اہداف حاصل کر چکے ہوتے، عدالتیں ٹیکنالوجی سے متعلق کیس سننا چھوڑ دیں، معاشرے سے انفرادیت ختم کرنے کے چکر میں ہم نے ٹیکنالوجی کے بزنس کو شدید متاثر کیا ہے۔

بدھ کو فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی میں دو روزہ انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ریاست ہر چیز کو ریگولیٹ نہیں کر سکتی، سیاسی و معاشی آزادی انسان میں نکھار پیدا کرتی ہے، پاکستان مستقبل بائیو ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر سائنسز میں پوشیدہ ہے لہٰذا طلباٗء و طالبات سائنس وٹیکنالوجی کے شعبوں میں آگے آئیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ 2001ء کے بعد پاکستان میں میڈیا میں یکسر تبدیلیاں رونما ہوئیں اور آئندہ دس سالوں میں یہ مکمل تبدیل ہو جائے گا، بطور وزیر اطلاعات کوشش کی تھی کہ وقت کے تقاضوں کے مطابق میڈیا کے نصاب میں تبدیلی لائی جائے۔

یہ بھی پڑھیے:

پی ٹی سی ایل کا محدود ماحول میں فائیو جی ٹیکنالوجی کا ٹرائل کامیاب

ٹیکنالوجی سے انسانوں کو خطرہ، 2025ء تک ساڑھے آٹھ کروڑ نوکریاں ختم ہو جائیں گی

انہوں نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں ہمیں اپنے طلبا و طالبات کو مستقبل کیلئے تیار کرنا ہو گا، وہ وقت دور نہیں جب پاکستان میں رسمی میڈیا غیررسمی میڈیا میں تبدیل ہو جائے گا، ٹوئیٹر، فیس بک، یو ٹیوب اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارم روایتی میڈیا کو بہت پیچھے چھوڑ جائیں گی۔

وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے کہا کہ 2014ء کے عدالتی فیصلوں سے بین الاقوامی سطح پر ٹیکنالوجی کمپنیوں سے پاکستان کے تعلقات متاثر ہوئے، عدالتوں کی وجہ سے لگنے والے جھٹکے سے سوشل میڈیا کے بڑے نیٹ ورک انڈیا منتقل ہو گئے، اگر یہ کمپنیاں پاکستان میں کام کرتیں تو پاکستانی یونیورسٹیوں کے طلبا کیلئے سائنس و ٹیکنالوجی کو سمجھنا بہت آسان ہوتا۔

انہوں نے زور دیا کہ عدالتیں ٹیکنالوجی سے متعلق کیس سننا چھوڑ دیں یا جج صاحبان چھ ماہ کسی یونیورسٹی سے تربیت حاصل کریں، ستم یہ ہوا کہ پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ٹک ٹاک پر بھی پابندی کا کارنامہ سر انجام دے دیا، ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ہر بچے کے ماں باپ بننا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاست ہر چیز کو ریگولیٹ نہیں کر سکتی، ہمیں افراد کیلئے ایسے مواقع پیدا کرنے چاہئیں کہ ہر شخص دیکھنے، سننے اور سمجھنے کے بعد خود فیصلہ کر سکے، معاشرے سے متنوع سوچ کو ختم نہیں کرنا چاہئے کیونکہ جب مختلف سوچ کے حامل افراد جمع ہوتے ہیں تو بہتری کا راستہ نکلتا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان سے بے روزگاری تب ختم ہو گی جب یہاں عالمی سرمایہ آئے گا، عدالتی فیصلوں اور ریاستی پالیسیوں میں بہتری کے بغیر بیرونی سرمایہ کاری ممکن نہیں۔ انہوں نے طالبات پر زور دیا کہ وہ سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں آگے آئیں۔

میڈیا کانفرنس کا انعقاد فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی، ایسوسی ایشن آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اکیڈمک پروفیشنلز ، پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور ایسوسی ایشن آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن ریسرچ  کے اشتراک سے کیا گیا جس میں اندرون و بیرون ملک سے ریسرچ سکالرز ، پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور طلبا و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here