حکومت نے روشن ڈیجیٹل اکاﺅنٹس کیلئے سادہ اور سہل ٹیکس نظام کا اعلان کر دیا

ان ترامیم سے روشن ڈیجیٹل اکائونٹس رکھنے والے غیر مقیم پاکستانیوں کیلئے ٹیکس قوانین پر عملدرآمد آسان ہو گیا ہے اور اس کی لاگت کم ہو گئی ہے: سٹیٹ بینک

137

کراچی: دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کی آرا اور بینک دولت پاکستان کی سفارشات کی بنیاد پر وفاقی حکومت نے ٹیکس لاز (ترمیمی) آرڈیننس 2001 کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس 2021 میں کئی ترامیم کی ہیں تاکہ روشن ڈیجیٹل اکاﺅنٹس (آر ڈی اے) رکھنے والے غیرمقیم پاکستانیوں کیلئے ٹیکسیشن نظام کو سادہ، سہل اور مشکلات سے پاک بنایا جا سکے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ان ترامیم سے روشن ڈیجیٹل اکائونٹس رکھنے والے غیر مقیم پاکستانیوں کیلئے ٹیکس قوانین پر عملدرآمد آسان ہو گیا ہے اور اس کی لاگت کم ہو گئی ہے۔

اپنے روشن ڈیجیٹل اکائونٹ کے ذریعے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کرنے والے غیرمقیم پاکستانی پہلے ہی مکمل اور حتمی ٹیکسیشن نظام کے ماتحت تھے تاہم ان ترامیم سے مکمل اور حتمی ٹیکس نظام کے دائرے کو مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور اس میں روشن ڈیجیٹل اکاﺅنٹ کے ذریعے میوچل فنڈ سرمایہ کاریوں اور حصص پر منافع منقسمہ (dividends) اور کیپٹل گین اور روشن ڈیجیٹل اکاﺅنٹ کے ذریعے رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاریوں پر کیپٹل گین کو شامل کردیا ہے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق مزکورہ ترامیم کے نتیجے میں روشن ڈیجیٹل اکاﺅنٹس کے ذریعے کی گئی سرمایہ کاری پر ہونے والی آمدنی پر ٹیکس گوشوارے داخل نہیں کرنا ہوں گے۔ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی شرط ختم ہونے سے روشن ڈیجیٹل اکائونٹس رکھنے والے غیرمقیم پاکستانیوں کو ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ (اے ٹی پی ایل) میں نام نہ ہونے کے باعث لگنے والے جرمانے (ٹیکس ریٹ دگنا ہو جانا) سے محفوظ کر دیا گیا۔

مزید یہ کہ روشن ڈیجیٹل اکائونٹس رکھنے والے غیرمقیم پاکستانیوں پر نقد رقم نکلوانے اور نان فائلر پر لاگو بینک ٹرانسفرز پر ٹیکس کا اطلاق بھی نہیں ہوگا۔ اگرچہ روشن ڈیجیٹل اکاﺅنٹس کے ڈپازٹس کے قرض پر ہونے والا نفع ٹیکس سے مستثنی ہے۔

تاہم نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے منافع پر ٹیکس کی شرح غیر مقیم پاکستانیوں اور بیرون ملک اثاثے ڈکلیئر کرنے والے مقیم پاکستانیوں دونوں کے لیے 10 فیصد اور میوچل فنڈز اور کمپنیوں (ماسوائے آئی پی پیز اور ٹیکس سے مستثنیٰ کمپنیوں کے لیے جن سے بالترتیب 7.5 فیصد اور 25 فیصد ٹیکس لیا جاتا ہے) سے ملنے والے منافع منقسمہ پر 15 فیصد ہے۔ حصص اور میوچل فنڈز پر کیپٹل گین پر بھی ٹیکس 15 فیصد ہے، یہ وہی شرح ہے جو فائلرز پر لاگو ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ رئیل اسٹیٹ کی خریداری اور فروخت دونوں کے وقت غیر مقیم پاکستانیوں پر خریداری/فروخت کی قیمت کی ایک فیصد کے مساوی ٹیکس کا اطلاق ہو گا جو روشن ڈیجیٹل اکاﺅنٹس کے ذریعے رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے کیپٹل گین پر غیر مقیم پاکستانیوں کی ٹیکس کی ذمہ داری کی مکمل اور حتمی بریت شمار ہو گی۔

ٹیکسیشن نظام کو سادہ بنانے کے اس عمل سے امکان ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکائونٹس اسکیم کو مزید بڑھاوا ملے گا جس میں اپنے آغاز سے اب تک پانچ مہینے میں سمندر پار پاکستانیوں سے معقول رقوم آ چکی ہیں۔ روشن ڈیجیٹل اکانٹ اسٹیٹ بینک کا زبردست پروگرام ہے جس کا مقصد سمندر پار پاکستانیوں کو پاکستان کے بینکاری اور ادائیگی کے نظام سے منسلک کرنا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here