دنیا کا چوتھا مصروف ترین ائیرپورٹ ٹاپ 20 سے بھی باہر ہو گیا

220

ابوظہبی: کورونا وائرس کے سبب متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ہوائی اڈوں پر مسافروں کی آمدورفت غیرمعمولی طور پر متاثر ہوئی ہے۔

دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے سبب 2020ء میں متحدہ عرب امارات کے ہوائی اڈوں پر مسافروں کی آمدورفت میں 70 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

دبئی ائیرپورٹ کی آپریٹر کمپنی کے مطابق گزشتہ سال کورونا وبا کے سبب سفری خدمات کے شعبے میں عالمی پابندیوں کے باعث دبئی کے ہوائی اڈے پر مسافروں کی تعداد کم ہو کر دو کروڑ 59 لاکھ پر آ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

یورپی ایئرپورٹس سے مسافروں کی آمدورفت میں ایک ارب 72 کروڑ کمی

پاکستانیوں کی پیسہ اور اثاثے دبئی میں رکھنے کی لت کو کیسے ختم کیا جائے؟

کمپنی نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ سال 2020ء میں دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازوں کی تعداد تین لاکھ تین ہزار 993 رہی جو 2019-20ء کے مقابلے میں 51.4 فیصد کم ہے۔

انٹرنیشنل ائیرپورٹس کونسل کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2019ء میں دبئی ائیرپورٹ دنیا کا چوتھا مصروف ترین ہوائی اڈہ تھا تاہم سال 2020ء کے دوران دو کروڑ 59 لاکھ مسافروں کی تعداد کے لحاظ سے دبئی ائیرپورٹ دنیا کے پہلے 20 ہوائی اڈوں میں بھی شامل نہ ہو سکا۔

سال 2020ء میں لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر مسافروں کی تعداد دو کروڑ 21 لاکھ اور پیرس کے ڈیگل ایئرپورٹ پر مسافروں کی مجموعی تعداد دو کروڑ 23 لاکھ رہی۔

ادھر یورپی یونین کے رکن ممالک میں میں بھی ایوی ایشن اور بین الاقوامی سفری خدمات کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے، ایئرپورٹس کونسل انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق کورونا لاک ڈائون کے نتیجے میں یورپی ایئرپورٹس سے مسافروں کی آمد و رفت میں واضح کمی ہوئی ہے اور سال کے دوران ان ایئرپورٹس سے سفر کرنے والوں کی تعداد 2019ء کے مقابلے میں ایک ارب 72 کروڑ (70 فیصد ) کم رہی۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین حکام کی جانب سے بلاک کے ایئرپورٹس کی معاونت کے لیے صرف 2.2 ارب یورو (2.66 ارب ڈالر) رکھے گئے ہیں جو ان کی 2020ء میں نقصان ہونے والی آمدنی کے 8 فیصد سے بھی کم ہیں۔ یورپی حکام کا کہنا تھا کہ یورپ کے وہ ایئرپورٹس جو بلاک کا حصہ نہیں وہ بلاک کی نسبت زیادہ متاثر ہوئے اور ان کی آمد و رفت میں سالانہ بنیاد پر 73 فیصد کمی آئی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here