تاجر برادری کا بجلی کے نرخوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ

صارفین پر 200 ارب روپے کا بوجھ پڑیگا، کاروباری لاگت میں مزید اضافہ ہو گا اور مہنگائی بڑھنے سے عام آدمی براہ راست متاثر ہو گا: صدر اسلام آباد چیمبر

198

اسلام آباد: اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار یاسر الیاس خان نے کہا ہے کہ کاروبار اور عوام کو مشکلات سے بچانے کیلئے بجلی کی قیمت میں اضافہ واپس لیا جائے، بجلی کے نرخ بار بار بڑھانے سے مہنگائی بڑھے گی اور معیشت مزید مشکلات کا شکار ہو گی۔

منگل کو ایک بیان میں صدر اسلام آباد چیمبر نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں 1.95 روپے فی یونٹ اضافہ موجودہ حالات میں قطعاََ اچھا فیصلہ نہیں، حکومت اس فیصلے کو فوری واپس لے کیونکہ اس سے صارفین پر تقریباََ 200 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا، کاروباری لاگت میں مزید اضافہ ہو گا اور مہنگائی بڑھنے سے عام آدمی براہ راست متاثر ہو گا جبکہ مجموعی معیشت پر اس کے مضر اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ غیرملکی قرضوں سے نجات حاصل کرنے اور پائیدار معاشی ترقی کیلئے پاکستان کو برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنے ضرورت ہے تاہم بجلی کے نرخوں میں بار بار اضافے سے پیداواری لاگت بڑھے گی اور ہماری مصنوعات مہنگی ہونے سے عالمی مارکیٹ میں برآمدات کو سخت مقابلے کا سامنا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے:

بجلی 1.95 روپے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری

مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے بجلی اور گیس مزید مہنگی

صدر اسلام آباد چیمبر نے کہا کہ بجلی بہت سے ایس ایم ای یونٹس اور بڑی صنعتوں کیلئے ایک اہم اَن پٹ ہے لہٰذا بجلی کی قیمت میں اضافے سے ان کا کاروبار بہت متاثر ہو گا جس سے معیشت کو بھی نقصان پہنچے گا۔

یاسر الیاس خان نے کہا کہ پاکستان میں بجلی کی قیمت پہلے ہی خطے میں سب سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات کو علاقائی ممالک کے ساتھ برآمدات کی مارکیٹ میں شدید مقابلہ کرنا پڑتا ہے، تاجر برادری طویل مدت سے حکومت پر زور دے رہی ہے کہ کاروباری لاگت کم کرنے کیلئے توانائی کے سستے ذرائع پر توجہ دی جائے لیکن ابھی تک اس طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی سے تنگ آ کر پہلے ہی مختلف محکموں کے ملازمین احتجاج پر اتر آئے ہیں کیونکہ افراط زر نے ان کی قوت خرید میں نمایاں کمی کر دی ہے، ان حالات میں بجلی کی قیمت میں اضافہ کرنے سے مہنگائی مزید بڑھے گی۔

اسلام آباد چیمبر کی سینئر نائب صدر فاطمہ عظیم اور نائب صدر عبدالرحمٰن خان نے کہا کہ کوروناوائرس کی وجہ سے کاروباری ادارے پہلے ہی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ان مشکل حالات میں حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ عوام اور کاروباری اداروں کو بہتر ریلیف فراہم کرنے پر توجہ دیتی تا کہ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ پانے سے معیشت استحکام کی طرف بڑھتی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here