حکومت کا چار پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کا عندیہ

سکھر الیکٹرک، پشاور الیکٹرک، حیدرآباد الیکٹرک اور کوئٹہ الیکٹرک سمیت دیگر کمپنیوں میں گزشتہ 15 سالوں میں انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری نہیں ہوئی، ان کمپنیوں کی عدم صلاحیت کی وجہ سے 150 ارب روپے گردشی قرضہ بڑھا، نجکاری پر کام جاری ہے: وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان

226

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے مہنگے اور غلط معاہدے گردشی قرضے اور بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا سبب ہیں، موجودہ حکومت ملک کو اس بحران سے نکالنے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے، آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدوں سے بجلی سستی ہو گی۔

نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے عمر ایوب خان نے کہا کہ موجودہ حکومت کو بجلی سے متعلقہ تمام مسائل ورثے میں ملے، سابق حکومت کے آئی پی پیز کے ساتھ غلط معاہدوں کی وجہ سے بجلی کی قیمتوں اور گردشی قرضے میں اضافہ ہوا ہے، 2013ء میں کپیسٹی پیمنٹ 185 ارب روپے تھی، جو 2018ء میں بڑھ کر 467 ارب روپے اور 2020ء میں 860 ارب روپے ہو گئی جبکہ 2023ء میں 2040 ارب روپے تک پہنچ جائے گی، ایک بھی ایسی کپیسٹی پیمنٹ نہیں ہے جس پر تحریک انصاف حکومت کے دستخط ہوں۔

عمر ایوب نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے آخری دور حکومت میں انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے بجلی کی قیمتیں نہیں بڑھائیں اور ووٹ لینے کیلئے لوڈشیڈنگ کم کی جس کی وجہ سے لاسز بڑھے۔

یہ بھی پڑھیے:

گردشی قرضہ کیا ہے اور یہ کیوں ختم نہیں ہو رہا؟

گردشی قرض میں ماہانہ کتنے ارب اضافہ ہو رہا ہے؟

انہوں نے کہا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں سکھر الیکٹرک، پشاور الیکٹرک، حیدرآباد الیکٹرک اور کوئٹہ الیکٹرک سمیت دیگر کمپنیوں میں گزشتہ 15 سالوں میں انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری نہیں ہوئی اور ان کی عدم صلاحیت کی وجہ سے 150 ارب روپے گردشی قرضہ بڑھا ہے، حکومت نے نجکاری کمیشن کو ان تمام کمپنیوں کی نجکاری کا ٹاسک دیا ہے جس پر کام جاری ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ تحریک انصاف حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد ڈسٹری بیوشن کمپنیوں پر 76 سے 77 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی، 49 ارب روپے اینٹی ڈی سی پر خرچ کئے۔ صوبائی حکوت کے ساتھ مل کر اگلے دو سالوں کے دوران کوئٹہ الیکٹرک کے تمام ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے جا رہے ہیں، اس سے 60 ارب روپے کی بچت ہو گی۔

عمر ایوب نے کہا کہ سابق حکومت نے بغیر آڈٹ کئے آنکھیں بند کر کے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے کئے تھے تاہم موجودہ حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت کی ہے جس سے ہمیں اربوں روپے بچت ہو گی، پری آڈٹ کر کے اکائونٹنٹ جنرل پاکستان ریونیوز (اے جی پی آر) کے ذریعے آئی پی پیز کو 400 ارب روپے کی ادائیگی کی جائے گی جس میں سے فیول ایڈجسمنٹ کی مد میں 100 ارب روپے کے قریب حکومت کو پھر واپس مل جائی گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مشیر تجارت رزاق داﺅد اور معاون خصوصی ندیم بابر آئی پی پیز کے اجلاسوں میں شامل نہیں ہوتے، ندیم بابر معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ہیں ان کا توانائی کے شعبے میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

ایل این جی پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے واویلا مچایا ہوا تھا کہ جیسے ملک میں گیس کا بحران پیدا ہو گیا ہو، حکومت نے وقت پر کارگو آرڈر کئے تھے اور ہمیں مناسب قیمت پر ایل این جی ملی، اگلے دو مہینوں میں مزید آٹھ کارگو کی بکنگ کیلئے پیپرا سے اجازت لی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here