سندھ، رواں سیزن میں 1.4 ملین ٹن گندم کے حصول کا ہدف مقرر

139

کراچی: سندھ کابینہ نے آئندہ سیزن میں صوبائی ضروریات کیلئے گندم کی خریداری کا ہدف 1.4 ملین ٹن مقرر کر دیا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں 80 فیصد پولی پروپلائن تھیلوں اور 20 فیصد جیوٹ تھیلوں کی خریداری کی منظوری دی گئی۔

وزیر خوراک سندھ ہری رام کشوری لعل نے صوبائی کابینہ کو بتایا کہ محکمہ خوراک کے ذخائر میں آٹھ لاکھ ٹن گندم دستیاب ہے، نئی فصل کی تیاری تک محکمہ خوراک کے پاس گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں۔

صوبائی کابینہ نے وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کے خلاف گندم ذخیرہ کرنے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ پنجاب کے ذخائر سے 60 لاکھ ٹن گندم غائب ہونے کی وجہ سے ملک میں بحران پیدا ہوا، وفاق کو پنجاب میں گندم کے ذخائر کا ریکارڈ نہ ہونے کا ذمہ دار سندھ کو نہیں ٹھہرانا چاہیے۔

دوسری جانب محکمہ خوراک سندھ نے صوبے کے مختلف علاقوں میں 2012ء سے 2017ء تک کیلئے ذخیرہ شدہ گندم میں سے 32 ہزار ٹن پرانی گندم کی فلور ملز کو ریلیز روک دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

صوبوں کو گندم کی یومیہ فراہمی کیلئے پائیدار ماڈل وضع کرنے کی ہدایت

’گندم اور چینی درآمد کرنا پڑ رہی، زرعی تحقیق پر توجہ دینا ہو گی‘

پرانے ذخائر میں سے گندم لاڑکانہ، شکارپور، قنمبر، شہداد پور، جیکب آباد اور کشمور میں واقع فلور ملز کیلئے جاری کی جانا تھی جبکہ 32 ہزار ٹن گندم میں سے 16 ہزار ٹن صرف کراچی کے لیے جاری کی جانا تھی۔

تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے تنقید سامنے آنے اور گندم ریلیز پالیسی برائے 2020-21ء کی خلاف ورزی کی وجہ سے پرانی گندم فلور ملز کو جاری کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

ایک میڈیا رپورٹ میں سندھ حکومت کے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کے کچھ بدعنوان عناصر ملی بھگت سے فلور ملز کو پرانے ذخائر کی نیلامی سستے داموں کرنا چاہتے تھے، مذکورہ گندم تھیلوں کی بجائے ڈھیر کی شکل میں پڑی تھی جو چھ سال پرانی ہونے کی وجہ سے زیادہ تر خراب ہو چکی تھی جسے اونے پونے داموں نکالے جانے کا منصوبہ تھا۔

محکمہ خوراک سندھ اب 100 کلوگرام بوری کی 3700 روپے پر نیلامی کرے گا جو نئی فصل کی جاری کردہ قیمت کے مطابق ہے۔

یہ بھی واضح رہے کہ سندھ میں گزشتہ چند سالوں سے گندم کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے کئی بار گندم کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here