پیداوار میں کمی سے معیشت متاثر، ٹیکسٹائل سیکٹر کا نقصان،کاٹن ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ

175

لاہور: لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر کاٹن ایمرجنسی نافذ کی جائے کیونکہ اس کی پیداوار میں کمی سے پوری معیشت متاثر ہو رہی ہے۔

ایک بیان میں لاہور چیمبر کے صدر میاں طارق مصباح، سینئر نائب صدر ناصر حمید خان اور نائب صدر طاہر منظور چوہدری نے کہا ہے کہ کپاس کی پیداوار میں تشویشناک صورت حال نے ٹیکسٹائل سیکٹر، براہ راست یا بالواسطہ وابستہ دیگر صنعتوں اور کاشت کاروں کو شدید متاثر کیا ہے۔

لاہور چیمبر کے ایگزیکٹو کمیٹی رکن محمد ندیم قریشی نے بھی لاہور چیمبر کے عہدیداروں سے ملاقات کرکے انہیں کپاس کی پیداوار کی موجودہ صورت حال سے آگاہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے:

کپاس کے زیرکاشت رقبہ میں کمی، ایک ارب ڈالر کی روئی درآمد

کپاس کی پیدوار خطرناک حد تک کم، زراعت، ٹیکسٹائل سیکٹر پر کیا اثرات مرتب ہونگے؟

جی ڈی پی میں 19 فیصد حصہ ڈالنے والی کپاس کی پیداوار 20 سال کی کم ترین سطح پر

چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں نے کہا کہ ٹیکسٹائل سب سے بڑا برآمدی شعبہ ہے جس کا ملک کی مجموعی برآمدات میں تقریباََ 60 فیصد حصہ ہے، کپاس ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے بے حد ضروری خام مال ہے تاہم ٹیکسٹائل کی صنعت کے پاس اس کو درآمد کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں کپاس کی پیداوار میں 2017-18ء کے بعد مسلسل کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، تب کپاس کی پیداوار ایک کروڑ 19 لاکھ گانٹھیں سالانہ تھی جو اب 17.5 فیصد کمی کے ساتھ 98 لاکھ گانٹھوں تک کم ہو چکی ہے۔

لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ کپاس کی پیداوار اور کاشت میں نمایاں کمی کا اثر پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات پر بھی پڑا ہے جو 2018-19ء میں 13.58 ارب ڈالر سے کم ہو کر 2019-20ء میں 12.78 ارب ڈالر رہ گئیں۔

انہوں نے کہا کہ کپاس پاکستان کی اہم نقد آور فصل ہے جس کا جی ڈی پی میں حصہ 0.8 فیصد اور ایگریکلچر ویلیو ایڈیشن میں حصہ 4.1 فیصد ہے۔ پانی کی قلت اور کیڑوں کے حملے سمیت وہ تمام مسائل حل کیے جائیں جو کپاس کی پیداوار کو متاثر کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here