تیل و گیس پیدا کرنے والے ممالک کی آمدنی میں 90 کھرب ڈالر کمی کا خدشہ

سعودی عرب، کویت، عراق، نائیجیریا، الجیریا سمیت تیل و گیس پیدا کرنے والے 12 ممالک کو 40 فیصد، روس، میکسیکو اور ایران کو 20 فیصد آمدنی میں کمی کا سامنا ہو سکتا ہے، بیروزگاری بھی بڑھے گی، رپورٹ

296

پیرس: دنیا میں قابل تجدید توانائی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے کیونکہ تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک کو آمد ن میں 90 کھرب ڈالر کمی کا سامنا ہے۔

یہ رجحان غریب مگر تیل اور گیس جیسے وسائل سے مالا مال ممالک کیلئے زیادہ نقصان کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ ان ممالک کی معیشت کا زیادہ انحصار تیل و گیس کی پیداوار اور برآمدات پر ہوتا ہے لیکن کئی وجوہات کی بنا پر معیشت کمزور رہتی ہے۔

ماحولیات، توانائی اور صنعت کے حوالے سے تحقیقاتی ادارے کاربن ٹریکر کے ایک جائزے کے مطابق 400 ملین سے زیادہ افراد ایسے متاثرہ ممالک میں رہتے ہیں جہاں نامیاتی ایندھن کی آمدنی میں کمی سے سرکاری آمدنی میں کم از کم 20 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے جو عوامی خدمات میں کمی اور بے روزگاری کا باعث بن سکتی ہے۔

ان میں سے آدھے افراد نائیجیریا میں ہیں جہاں تیل کی آمدنی میں 70 فیصد کمی سے ریاست کی آمدنی میں ایک تہائی کمی کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

گائے کے گوبر سے توانائی پیدا کرکے بسیں چلائی جائیں گے

بلوچستان میں ٹیوب ویل شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی منظوری

چینی حکومت کا توانائی کمپنی کو پاکستان سٹاک ایکسچینج کا حصہ بنانے کا فیصلہ

کاربن ٹریکر کے سربراہ اینڈریو گرانٹ نے کہا ہے کہ ہوا اور شمسی توانائی جیسی ’ری نیو ایبل انرجی‘ نامیاتی ایندھن (تیل اور گیس) سے سستی ہے، اس لیے تیل پیدا کرنے والی اقوام کو 2040ء تک ان کی توقعات کے مقابلے میں مجموعی طور پر ایک کھرب 30 ارب ڈالر نقصان کا خدشہ ہے۔

اس کے علاوہ چین اور جاپان جیسے توانائی کے عالمی مراکز کی جانب سے خود کو ماحول دوست توانائی پر منتقل کرنے کے عمل نے نامیاتی ایندھن کے حامل ملکوں کیلئے پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے جن کا تیل و گیس کا کاروبار رفتہ رفتہ ختم ہونے سے آمدنی بُری حد تک متاثر ہو گی کیونکہ ان کا گزر بسر اسی آمدنی پر ہے، بہرحال ان ممالک کو اس صورت حال کا سامنا ضرور کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر تیل 60 ڈالر فی بیرل پر برقرار نہ رہا تو 2040ء تک انگولا اور آذربائیجان سمیت سات ممالک سرکاری محصولات میں کم از کم 40 فیصد سے محروم ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نائیجیریا، الجیریا، سعودی عرب، کویت اور عراق اُن 12 ممالک میں شامل ہیں جو 20 سے 40 فیصد حکومت کی آمدنی سے محروم ہو سکتے ہیں جبکہ روس، میکسیکو اور ایران کو 10 سے 20 فیصد کے درمیان نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

اینڈریو گرانٹ نے کہا کہ ماحولیات کے حوالے سے 2015ء میں پیرس میں ہونے والے عالمی معاہدے کے تحت تمام ممالک کو درجہ حرارت دو ڈگری سینٹی گریڈ کم کرنے کی کوششیں کرنی ہیں جن کے تحت ماحول کیلئے مضر گیسوں کا اخراج روک کر عالمی درجہ حرارت کو صنعتی انقلاب سے پہلے کی سطح پر لایا جائے گا۔

اس معاہدے کے تحت امیر ممالک اور بڑے کاروباری اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں سالانہ 100 ارب ڈالر فراہم کریں، اس میں سے نصف رقم اُن ملکوں اور عالمی اداروں کو دی جائے گی جو ماحول دوست ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے کوشاں ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here