گریڈ ایک سے 19 کے وفاقی ملازمین کو تنخواہوں میں 25 فیصد ایڈہاک ریلیف مل گیا

گریڈ 20 تا 22 کے ملازمین، وفاقی پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی تنخواہوں میں اضافہ بجٹ میں کیا جائے گا، حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کی ملازمین کے نمائندوں کے ہمراہ پریس کانفرنس

604

اسلام آباد: حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کیلئے قائم کی گئی مذاکراتی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ گریڈ ایک سے 19 تک کے وفاقی ملازمین کو 25 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جائے گا جو جون 2021ء میں پیش کئے جانے والے بجٹ میں ضم کر دیا جائے گا۔

جمعرات کو حکومتی کمیٹی میں شامل وزراء نے احتجاجی ملازمین کے نمائندوں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کی، حکومتی کمیٹی میں وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان شامل تھے۔

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ احتجاج کرنے والے ملازمین سے معاملات طے پا گئے ہیں، سرکاری ملازمین کی ہڑتال ختم ہو جائے گی اور یہ گھروں کو واپس چلے جائیں گے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ان فیصلوں کی منظوری وزیراعظم سے خود جا کر لی ہے، گریڈ 20، 21 اور 22 کی تنخواہوں کا فیصلہ بجٹ میں کیا جائے گا، پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی تنخواہوں میں بھی اضافہ بجٹ میں کیا جائے گا۔

انہوں نے تمام گرفتار ملازمین کو رہا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آرز واپس لے لی جائیں گی، وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور سیکرٹری خزانہ ان فیصلوں پر عملدرآمد کروائیں گے۔

وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ تقریباََ ایک سال سے وفاقی ملازمین کی تنخواہوں کا مسئلہ تھا، ہمارا فیصلہ ہے کہ 25 فیصد ایڈہاک ریلیف دیں گے، صوبائی ملازمین کا مسئلہ حل کرنے کی ہدایات بھی دی ہیں، اَپ گریڈیشن کا فیصلہ بھی کر لیا ہے جس پر جون کے بعد عمل ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ایڈہاک ریلیف جون میں آنے والے بجٹ میں ضم کر دیا جائے گا، خیبرپختونخوا کے ملازمین کیلئے ٹائم سکیل منظور ہو گیا ہے، باقی صوبے بھی عمل کریں گے، طریقہ کار کے مطابق ترقیاں ہوں گی اور کام کرنے والے لوگوں کو آگے لایا جائے گا۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے ہیلتھ ورکرز کے مسائل بھی حل کریں گے، صوبوں کو بھی تنخواہوں کے مسئلے کے حل کے لئے تجاویز دی جائیں گی۔

اس موقع پر وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ وفاقی ملازمین کے مسائل کے حل کے لئے وزیراعظم نے ذاتی دلچسپی لی اور ملازمین نے صبر سے کام لیا، گزشتہ روز کچھ ایسے مناظر دیکھنے کو ملے جو نہیں ہونے چاہیے تھے، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کسی کی تنخواہ زیادہ اور کسی کی کم ہو، وزیراعظم عمران خان تفریق ختم کرنے آئے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی ملازمین کے ساتھ حکومتی کمیٹی نے مذاکرات کی کوشش کی جو ناکام رہی، جس پر سرکاری ملازمین نے اسلام آباد کی شاہراہ دستور، سیکرٹریٹ بلاک، کیبنیٹ بلاک، نیشنل پریس کلب اور ڈی چوک دھرنا دیا اور احتجاج کیا جس پر انہیں سخت پولیس ایکشن کا سامنا کرنا پڑا اور پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی گئی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here