تین ماہ میں ٹویوٹا کو 8 ارب ڈالر منافع، نسان کو 5.1 ارب ڈالر خسارہ

172

ٹوکیو: کورونا وائرس نے جہاں دنیا بھر کی معیشت کو متاثر کیا ہے وہیں آٹو انڈسٹری بھی لڑکھڑا گئی ہے کیونکہ سفری پابندیوں اور فیکٹریوں کی بندش کی وجہ سے پیداواری سرگرمیوں میں تعطل آ گیا تھا جو بتدریج بحال ہو رہی ہیں۔

جاپانی موٹر ساز کمپنی ٹویوٹا نے کہا ہے کہ کاروباری سال 2020-21ء کی تیسری سہ ماہی کے دوران اس کے خالص منافع میں سالانہ بنیاد پر 50 فیصد اضافہ ہوا جس کی وجہ کورونا وائرس کم ہونے سے گاڑیوں کی فروخت بڑھنا ہے۔

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ کاروباری سال کی تیسری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر) کے دوران دنیا میں کورونا وائرس کی لہر تھمنے اور اقتصادی سرگرمیوں کی بحالی سے اس کی گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں پاکستان میں کتنی کاریں فروخت ہوئیں؟

سال 2020ء: دنیا بھر میں سب سے زیادہ کاریں کس کمپنی نے فروخت کیں؟

ٹویوٹا کے مطابق 2020ء کی آخری سہ ماہی کے دوران کمپنی کو 838.7 ارب ین یعنی 8 ارب ڈالر خالص منافع ہوا جبکہ 2019ء کے اسی عرصے میں کمپنی کو 559.3 ارب ین خالص منافع ہوا تھا۔

دوسری جانب جاپانی موٹرساز کمپنی نسان نے کہا ہے کہ اسے کاروباری سال 21 ۔2020ء میں 530 ارب ین یعنی 5.1 ارب ڈالر خسارے کا امکان ہے۔ اس سے قبل کمپنی نے 615 ارب ین خسارے کی پیش گوئی کی تھی۔

کمپنی کی جانب سے گزشتہ روز جاری بیان کے مطابق کورونا وائرس کے باعث 2020ء میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے سے اسے تیسری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر) میں خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔

نسان موٹرز کا کہنا ہے کہ اب صورت حال بہتر ہو رہی ہے جس کے باعث مارچ میں ختم ہونے والے کاروباری سال 21 ۔2020ء کا خسارہ کم ہو کر 530 ارب ین رہنے کا امکان ہے۔

ادھر چائنہ آٹوموبائل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق کورونا وائرس کی صورت حال بہتر ہونے سے پیداواری، کاروباری و دیگر سرگرمیوں کی بحالی کے بعد جنوری 2021ء کے دوران گاڑیوں کی فروخت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

جنوری میں 25 لاکھ گاڑیاں فروخت ہوئیں جو جنوری 2020ء کے مقابلے میں 29.5 فیصد زیادہ ہیں۔ جنوری کے دوران سالانہ بنیاد پر گاڑیوں کی فروخت میں اضافے کے باوجود ماہانہ بنیاد پر گاڑیوں کی فروخت 11.6 فیصد کم ہوئی جس کی وجہ آٹوموبائل چپس کی کمی تھی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here