حکومت کا ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان 2021ء کیا ہے؟

زرعی شعبے کے فروغ کے حوالے سے وزیرِ اعظم کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم، کمیٹی ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان کو حتمی شکل دے کر وزیرِاعظم کو پیش کرے گی تاکہ اس پر ترجیحی بنیادوں پر عملدرآمد کیا جا سکے

451

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانا، زرعی شعبے کا فروغ اور کسانوں کو جائز حق دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے، ملکی معیشت میں زراعت کی اہمیت کے باوجود ماضی میں اس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ٹیکنالوجی کے فروغ کو نظر انداز کیاگیا جس کا خمیازہ ہمارے کسان اور ملکی معیشت کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

گزشتہ روز زرعی شعبے کی بحالی کے حوالے سے اصلاحات سے متعلق جائزہ اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت منعقد ہوا، اجلاس کو بتایا گیا کہ ملکی مجموعی پیداوار میں زرعی شعبے کا حصہ موجود استعداد سے کم ہے، اسی طرح گندم، چاول، مکئی، کپاس اور گنے کی پیداوار بھی خطے کے مقابلے میں کم ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ موثر حکمت عملی اور کسانوں کو مالی و تکنیکی معاونت کی فراہمی سے زرعی پیداوار کے تناسب کو سال 2031ء تک 74 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے جبکہ سال 2020ء میں ملکی مجموعی پیداوار میں زرعی شعبے کا حصہ 49 ارب ڈالر رہا جس میں 31 ارب ڈالر لائیو سٹاک، ایک ارب فشریز جبکہ 17 ارب ڈالر فصلوں کی مد میں ریکارڈ کیا گیا۔

اجلاس کے شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ سال 2000ء میں ملکی جی دی پی میں زرعی سیکٹر کا حصہ 20 ارب ڈالر تھا جس میں 10 ارب ڈالر لائیو سٹاک جبکہ فصلوں کا حصہ 10 ارب ڈالر تھا۔ اس اعتبار سے گزشتہ بیس سالوں میں زرعی فصلوں کی پیداوار میں صلاحیت کے مطابق استعداد کو برؤے کار نہیں لایا جا سکا۔

مختلف اجناس کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستان میں گندم کی اوسطاً پیداراو 29 من فی ایکڑ، چاول 50 من فی ایکڑ، مکئی 57 من، کپاس 18 من اور گنے کی پیداوار 656 من فی ایکڑ رہی ہے جبکہ بھارت میں یہ پیداوار بالترتیب گندم 51 من، چاول 64 ، مکئی 42، کاٹن 18 جبکہ گنے کی پیداوار اوسطاً 796من فی ایکڑ ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں پروگریسیو کسان کی اوسطاً پیداوار گندم 45 من فی ایکڑ، چاول 80 من، مکئی 80 من، کاٹن 35 من جبکہ گنے کی اوسطاً پیداوار 950 من ہے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت پاکستانی کسان کو فی ایکڑ 140 ڈالر ایگری کریڈٹ دستیاب ہے جبکہ بھارتی کسان کو 369 ڈالر، امریکہ میں 192 اور  چین میں 628 ڈالر ایگری کریڈٹ میسر آ رہا ہے۔ اسی طرح سبسڈی کی مد میں بھی پاکستانی کسان کو دیگر ممالک کے مقابلے میں کم معاونت میسر ہے جو اوسطاً محض 27 ڈالر فی ایکڑ ہے۔

اجلاس کو زرعی شعبے میں موجود استعداد کو برؤے کار لانے کے حوالے سے مجوزہ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان 2021ء پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

ایگری کلچر ٹرانسفارمیشن پلان کے پہلے مرحلے میں سیڈ (بیج) سیکٹر میں اصلاحات لائی جائیں گی اور زیادہ قوت مدافعت اور پیداوار کا حامل بیج متعارف کرایا جائے گا۔ ڈیجیٹل سبسڈی کا نظام متعارف کرایا جائے تاکہ حکومتی سبسڈی مستحق کسان تک پہنچے۔

اسی طرح زرعی مشینری کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا تاکہ وقت کے ضیاع کو روکا جا سکے اور کسان اچھی فصل اگا سکے، پانی کا موثر استعمال یقینی بنایا جائے گا۔

اس کے علاوہ ایگری کلچر ٹرانسفارمیشن پلان  کے پہلے مرحلے میں کاشت کاروں کو کریڈٹ کی فراہمی، ایکسٹینشن سروسز کی تنظیم نو، سٹوریج کی سہولیات اور تحقیقاتی شعبوں میں اصلاحاتی پروگرام متعارف کرانے سمیت آٹھ بڑے اقدامات کی نشاندہی کی گئی۔

ایگری کلچر ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت کپاس، زیتون، مال مویشیوں میں جنیٹک امپروومنٹ اور فشریز (ماہی گیری) کو ترجیحاتی شعبے کے طور پر لیا جائے گا، ان شعبہ جات میں اصلاحات پر عمل درآمد کے حوالے سے مجوزہ اوقات کار وزیرِ اعظم کو پیش کر دئیے گئے۔

اجلاس کو کسانوں کو ٹارگٹڈ سبسڈی کی فراہمی کے لئے ڈیجیٹل طریقہ کار پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ موجود اعدادوشمار کے مطابق پنجاب میں 67 فیصد کسانوں (تقریباََ 37 لاکھ) کا ڈیٹا موجود ہےجن میں سے 18 لاکھ کسان کسی نہ کسی صورت میں ڈیجیٹل نظام سے خدمات استعمال کر چکے ہیں۔ نو لاکھ کسانوں کو سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔ خیبرپختونخوا میں چار لاکھ کسان ڈٖیجیٹل پلیٹ فارم پر رجسٹرڈ ہیں۔

اجلاس میں زرعی پیداوار میں اضافے کے حوالے سے مشینری کے استعمال کے فروغ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں گورنمنٹ کی جانب سے درکار معاونت کے حوالے سے مجوزہ اعدادو شمار پیش کیے گئے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانا، زرعی شعبے کا فروغ اور کسان کو اس کا جائز حق دلوانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملکی معیشت میں زراعت کی اہمیت کے باوجود ماضی میں اس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ٹیکنالوجی کے فروغ کو نظر انداز کیاگیا جس کا خمیازہ ہمارے کسان اور ملکی معیشت کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی بڑھتی آبادی کے پیش نظر فوڈ سیکیورٹی کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے، خوراک کی درآمدات پر آنے والے اخراجات میں کمی لانے اور شعبے میں موجود پوٹینشل کو برؤے کار لانے کے لئے زرعی شعبے کی بحالی اور ترقی ایک قومی ترجیح ہے۔

اجلاس میں زرعی شعبے کے فروغ کے حوالے سے وزیرِ اعظم کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ کمیٹی وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نمائندگان، نجی شعبے اور ماہرین پر مشتمل ہو گی جو ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان کو حتمی شکل دے کر وزیرِاعظم کو پیش کرے گی تاکہ اس پر ترجیحی بنیادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر برائے اقتصادی امور خسرو بختیار، وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، وزیر خوراک فخر امام، مشیر وزیراعظم ڈاکٹر عشرت حسین، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار، وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان، معاونین خصوصی ڈاکٹر معید یوسف، ڈاکٹر وقار مسعود، گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے صوبائی وزراء مخدوم ہاشم جواں بخت، محمد سبطین خان، حسین جہانیاں گردیزی، صمصام بخاری، سردار حسنین بہادر دریشک، تیمور سلیم جھگڑا، سید محمد اشتیاق، نجی شعبے کے نمائندگان اور متعلقہ محکموں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here