‘احساس پروگرام جنوبی ایشیا میں سماجی تحفظ کا سب سے بڑا پروگرام بن چکا ہے’

حکومت پاکستان نے کورونا وبا سے نمٹنے کیلئے معاشرے کے کمزور طبقات بالخصوص خواتین کو احساس پروگرام کے تحت نقد معاونت میں تقریباً تین گنا اضافہ کیا جس سے ایک کروڑ 50 لاکھ خاندان مستفید ہوئے: عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک

810

اسلام آباد: عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے احساس پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے کورونا وبا سے نمٹنے کیلئے معاشرے کے کمزور طبقات بالخصوص خواتین کو اس پروگرام کے تحت نقد معاونت میں تقریباً تین گنا اضافہ کیا ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور احساس کفالت جنوبی ایشیاء میں سماجی تحفظ کے سب سے بڑے پروگرام بن چکے ہیں۔

یہ بات جنوبی ایشیا کیلئے عالمی بینک کے نائب صدر ہارت ویگ شیفر اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے نائب صدر آپریشنز شاکسن چن نے اپنے مشترکہ بلاگ میں کہی ہے۔

عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے اہم عہدیداروں نے معاشرے کے غریب اور کمزور طبقات کیلئے پاکستان کی حکومت کی جانب سے سماجی تحفظ کے جامع احساس پروگرام کے تحت نقد امداد کی فراہمی کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ احساس پروگرام بحران کے وقت میں معاشرے کے کمزور طبقات کے سماجی تحفظ کی ایک عظیم مثال ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

ساڑھے 31 ہزار افراد کو احساس پروگرام کے ڈیٹابیس سے نکال دیا گیا

احساس کفالت پروگرام کے تحت 70 لاکھ مستحقین کو ادائیگی کا عمل شروع

احساس پروگرام کی سربراہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر بی بی سی کی ایک سو بااثر خواتین میں شامل

اس پروگرام کے تحت ضرورت مند افراد اپنے شناختی کارڈ نمبر کو استعمال کرتے ہوئے ٹیکسٹ میسیج کے ذریعہ درخواست دیتے ہیں، ادائیگی سے قبل بائیو میٹرک طریقے سے درخواست دہندہ کے کوائف جانچے جاتے ہیں۔ یہ مبنی بر ڈیٹا، آٹومیٹڈ اور سیاسی طور پر غیرجانبدار سماجی تحفظ کا پروگرام ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال مارچ سے لیکر اب تک پاکستان کی حکومت نے معاشرے کے غریب اور کمزور طبقات پر وبا کے اثرات کو کم کر نے کیلئے سماجی تحفظ کے پروگرام کے تحت نقد امداد کی فراہمی میں تقریباً تین گنا اضافہ کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ایک کروڑ 50 لاکھ سے زائد خاندانوں بالخصوص خواتین کو نقد معاونت فراہم کی جا چکی ہے۔

عالمی بینک کے نائب صدر ہارت ویگ شیفر اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے نائب صدر شاکسن چن نے کہا کہ یہ سب بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور احساس کفالت پروگرام کیلئے زیادہ فنڈز مختص کرنے اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں سرمایہ کاری میں اضافہ کے باعث ممکن ہوا ہے۔ دونوں پروگرام جنوبی ایشیا کے خطے میں سماجی تحفظ کے سب سے بڑے پروگرام بن چکے ہیں۔

احساس کفالت پروگرام قومی سماجی و اقتصادی رجسٹری کی بنیاد پر چل رہا ہے جس میں ملک کی 85 فیصد آبادی کا ڈیٹا بیس موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے اثرات کو کم کرنے اور بحالی کے عمل میں پاکستان سمیت خطہ کے دیگر ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here