’10 بلین ٹری پروگرام کی سیٹلائٹ سے نگرانی کیلئے سپارکو سے مدد لی جائے‘

موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے دوچار ممالک میں پاکستان آٹھویں نمبر پر ہے، بارشوں کی شدت میں ردوبدل، سیلاب، درجہ حرارت بڑھنے اور گلیشیئرز کے پگھلنے سے جھیلیں بننے جیسے خطرات کا سامنا

336

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ پاکستان میں ماحول کو آلودہ کرنے والے عناصر کے اخراج میں واضح کمی لانے کیلئے اقدامات کئے جائیں، 10 بلین ٹری سونامی پروگرام میں شفافیت یقینی بناتے ہوئے سیٹلائٹ تصاویر کیلئے سپارکو سے مدد حاصل کی جائے۔

سوموار کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب، وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان، وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان، وزیراعظم کے معاون خصوصی ملک امین اسلم، وزیر مملکت زرتاج گل، وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں گرین ہاﺅس گیسوں کی تازہ ترین صورت حال اور 10 ارب درخت لگانے کے پروگرام پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان کی گرین ہائوس گیسوں کے اخراج کے اضافے کی شرح معمول کی طے کردہ نچلی سطح سے نو فیصد کم ہے جبکہ یہ شرح قومی سطح پر متعین اہداف سے بھی نیچےہے۔

یہ بھی پڑھیے:

گائے کے گوبر سے توانائی پیدا کرکے بسیں چلائی جائیں گے

پاکستانیوں کی اوسط عمر میں پانچ سال کمی، مگر کیوں؟

سندھ، ٹریٹمنٹ پلانٹ کے بغیر نئی فیکٹری لگانے پر پابندی عائد

اجلاس کے شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ یہ ماحول دوست تبدیلی خیبرپختونخوا میں بلین ٹری سونامی کے کامیاب منصوبے اور ملک بھر میں 10 ارب درخت لگانے کے سونامی پروگرام کی بدولت حاصل ہوئی ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے بتایا کہ درخت کاٹنے کی شرح میں نمایاں طور پر کمی آئی ہے، 2012ء سے 2016ء کے دوران یہ کمی سالانہ 12 ہزار ہیکٹرز سے کم ہو کر آٹھ ہزار ہیکٹرز پر آ گئی ہے اور 10 ارب درخت لگانے کے منصوبہ کی کامیابی سے اس میں مزید کمی آئے گی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ عالمی سطح پر گرین ہائوس گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ پاکستان کی گرین ہائوس گیسوں کے اخراج کے حوالے سے فی کس درجہ بندی 2015ء میں 135 تھی جو بہتر ہو کر 2018ء میں 133 ہو گئی ہے۔

پاکستان کی ماحولیات کے شعبہ میں کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی نے بتایا کہ پاکستان نے 1990ء سے 2020ء کے دوران مینگروز کی تعداد میں 300 فیصد اضافہ کیا ہے جس سے ماحول کو بہتر بنانے میں کافی مدد ملے گی۔ نے بتایا کہ یہ دنیا میں مینگروز کی تعداد میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے ممالک کی درجہ بندی میں پاکستان آٹھویں نمبر پر ہے اور ہمیں بارشوں کی شدت میں ردوبدل، سیلاب، درجہ حرارت بڑھنے اور گلیشیئرز کے پگھلنے سے جھیلیں بننے جیسے خطرات کا سامنا ہے۔

ملک امین اسلم نے وزیراعظم کو 10 ارب درخت لگانے کے منصوبہ پر پیشرفت سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان رواں سال کے وسط تک ایک ارب درخت لگانے کا ہدف حاصل کر لے گا۔ اس حوالہ سے ملک بھر میں زبردست کام ہو رہا ہے۔ پاکستان 2023ء تک تین ارب 20 کروڑ درخت لگانے کا پہلا مرحلہ مکمل کر لے گا۔

یہ بھی پڑھیے:

شہد کی پیداوار بڑھانے کیلئے ”بلین ٹری ہنی“ پروگرام کا اجراء

امیر ممالک غریب ملکوں کی نسبت دوگنا کوڑا کیوں پیدا کر رہے ہیں؟

اجلاس میں ڈبلیو ڈبلیو ایف، آئی یو سی این اور ایف اے او سمیت تین بین الاقوامی اداروں کے کنسورشیم کے بارے میں بھی بتایا گیا جنہوں نے 10 بلین ٹری سونامی پروگرام کی تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ کیلئے پہلے ہی اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 10 ارب درخت لگانے کے منصوبہ سے کورونا کی وبا کے دوران 80 ہزار ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے۔

وزیراعظم عمران خان نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ ایسے اقدامات کئے جائیں کہ پاکستان میں ماحول کو آلودہ کرنے والے عناصر کے اخراج کو صفر تک لانا ممکن ہو سکے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے اثرات سے نمٹنے کیلئے وزیراعظم نے پیشگی اطلاع دینے والے نظام کو قائم کرنے اور فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے دریاﺅں کے پانی کو صاف رکھنے کیلئے پانی صاف کرنے والے پودوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ وزیراعظم نے 10 ارب درخت کے سونامی پروگرام پر پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اس پروگرام میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور ملک بھر میں اس پروگرام پر عملدرآمد کرتے ہوئے سپارکو سے سیٹلائٹ تصاویر کے حصول کے ذریعے بھی مدد حاصل کی جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here