کھاد کمپنیوں کو رعایتی نرخوں پر گیس فراہمی بند کرنے کا فیصلہ

291

اسلام آباد: حکومت نے جاری مالی سال کے وسط تک فاطمہ فرٹیلائزر اور اینگرو فرٹیلائزر کیلئے گیس ٹیرف میں رعایت بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

اس وقت فاطمہ فرٹیلائزر لمیٹڈ اور اینگرو فرٹیلائزر لمیٹد کو گیس ٹیرف پر 0.70 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو رعایت دی جا رہی ہے۔ فاطمہ فرٹیلائزر کے کمرشل آپریشنز شروع ہونے کے دس سال بعد اس کیلئے ٹیرف میں چھوٹ کا دورانیہ جولائی 2021ء میں ختم ہو رہا ہے جبکہ اینگرو فرٹیلائزر کا رعایتی دورانیہ جون 2021ء کے آخر تک ختم ہو رہا ہے۔

تاہم حکومت اور اینگرو فرٹیلائزر کے درمیان گیس سپلائی کے رعایتی نرخوں کی مدت پوری ہونے پر تنازع چل رہا ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن نے ایک حالیہ اجلاس کے دوران اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بتایا کہ دونوں کھاد ساز پلانٹس کے رعایتی نرخوں کا دورانیہ ایک بار ختم ہونے پر حکومت پوری فرٹیلائزر انڈسٹری کے لیے مقامی گیس کے استعمال کے لیے ٹیرف پر نظرثانی کرے گی اور تمام نجی کمپنیوں کو یکساں سازگار ماحول دینے میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرے گی۔

اگرچہ دونوں فرٹیلائزر کمپنیوں کے پلانٹس سستے نرخوں پر گیس وصول کر رہے ہیں تاہم دونوں کمپنیاں کسانوں کو کھاد کی فروخت پر رعایت دینے سے گریزاں ہیں اور دیگر کمپنیوں کی قیمت کے برابر ہی فروخت کر رہی تھیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here