‘وزیراعظم ہائوس میں یونیورسٹی کی فزیبلٹی پر 39 کروڑ خرچ، قیام میں چھ سال لگیں گے’

یونیورسٹی کیلئے دو ارب روپے مختص، قائمہ کمیٹی کو بریفنگ، فواد چوہدری کا 13 ارب روپے کا سکالرشپ منصوبہ شروع کرنے کا عندیہ

580

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم ہائوس میں بننے والی یونیورسٹی کی فزیبلٹی پر 39 کروڑ خرچ ہوں گے جبکہ اس یونیورسٹی کے قیام میں چھ سال لگیں گے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اجلاس میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت جولائی سے دسمبر 2020ء تک وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کیلئے مختص اور استعمال شدہ بجٹ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) کے افسران کی بدعنوانی کے کیسز کے حوالے سے قائمہ کمیٹی کی جانب سے 18 اگست 2020ء کے اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد سمیت وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماتحت اداروں کے سربراہان کا تقرر نہ ہونے کے معاملات پر بھی بات چیت کی گئی۔

قائمہ کمیٹی کو گزشتہ چھ ماہ کے دوران پی ایس ڈی پی منصوبوں پر اخراجات کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 32 منصوبوں میں سے پچیس وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور اس کے ماتحت اداروں جبکہ سات منصوبے وزیراعظم ٹاسک فورس کے تحت تھے۔

وزارت کے مطابق اِن منصوبوں کیلئے رواں مالی سال کیلئے چار ارب 45 کروڑ 80 لاکھ روپے مختص کئے گئے تھے جن میں سے پہلے چھ ماہ کے دوران ایک ارب آٹھ کروڑ 70 لاکھ روپے ریلیز ہوئے اور ان میں سے اب تک 22 کروڑ 20 لاکھ روپے خرچ ہو سکے ہیں۔

قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ دو ارب روپے صرف وزیراعظم سیکرٹریٹ میں بننے والی یونیورسٹی کیلئے مختص ہوئے ہیں، یونیورسٹی کی فزیبلٹی وغیرہ پر 39 کروڑ روپے خرچ ہوں گے جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بعض منصوبوں کو دو سال پہلے مکمل ہونا چاہئیے تھا لیکن ان پر اب بھی کام جاری ہے۔

ایڈیشنل سیکرٹری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی میجر (ر) ڈاکٹر قیصر مجید ملک نے بتایا کہ 13 منصوبے رواں مالی سال کے آخر تک مکمل ہو جائیں گے، یونیورسٹی کی فزیبلٹی بن رہی ہے اور اس کے قیام میں چھ سال لگیں گے۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ رقم پہلے مختص کر دی گئی اور منصوبے کی فزیبلٹی ابھی بنی ہی نہیں، یونیورسٹی کے قیام کے حوالے سے کوئی عملی کام نہیں ہوا۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کمیٹی کو بتایا کہ جب کورونا وبا آئی تو پاکستان کچھ نہیں بنا رہا تھا، وینٹی لیٹرز، ماسک، سینی ٹائزر ہر چیز درآمد کر رہے تھے، آج پاکستان کورونا سے متعلق آلات برآمد کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے دو نئی انڈسٹریز کھڑی کرنی ہیں، بڑی کمپنیاں آ کر پاکستان میں ڈائیلائسسیز مشینیں بنا رہی ہیں، الیکٹرک وہیکلز پالیسی ہماری بڑی کامیابی ہے، اس سال سب سے بڑی اسکالرشپ مہم شروع کر رہے ہیں، سکالرشپس کیلئے 13 ارب روپے کا منصوبہ منظور ہوا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا جب میں نے چارج لیا تو سائنس کے اداروں کے سربراہان نہیں تھے، ہم ریسرچ کا بجٹ 16 ارب روپے تک بڑھا دیا، اداروں کو مضبوط کر رہے ہیں، اداروں کے بورڈز مکمل کروائے ہیں۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ پچھلے 33 ماہ میں یہ 48واں اجلاس ہے،227 سفارشات وزارت کو دی ہیں جو وزارت کے ماتحت اداروں سے متعلق تھیں لیکن اداروں کا کام سست روی کا شکار ہے۔

اس پر وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ 15 سالوں کے بعد ہم نے اداروں کے رولز بنائے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صرف چار ادارے رہ گئے ہیں جن کے سربراہ ابھی لگنے باقی ہیں تاہم زیادہ تر اداروں کے سربراہان لگا دیئے گئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here