’1974ء کے بعد پی ٹی وی کیلئے جدید آلات نہیں خریدے گئے‘

پینشن سمیت اربوں روپے کے دیگر واجبات زیر التواء، نئے آلات کی فراہمی کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، شبلی فراز کا سینیٹ میں جواب

166

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) دو اڑھائی سال میں زوال پذیر نہیں ہوا بلکہ ایک عرصہ سے صورت حال خرابی کی طرف گامزن تھی، پی ٹی وی کو مالیاتی مسائل کا سامنا ہے، حکومت بہتری کے لئے کوشاں ہے۔

جمعرات کو ایوان بالا کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر بہرہ مند تنگی کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ پی ٹی وی کے بعض سٹوڈیوز بند پڑے ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں جو سٹوڈیوز فنکشنل ہیں ان میں ہر طرح کے پروگرام ریکارڈ کئے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پی ٹی وی کو نجکاری فہرست سے نکال دیا گیا

انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی ایک عرصے سے زوال پذیر ہے، ایک دم سے یہ خرابی وقوع پذیر نہیں ہوئی، وقت کے ساتھ ساتھ مختلف اداروں کی کارکردگی نیچے گئی ہے، ماضی میں اپنے پروگراموں کی بجائے ڈرامے اور پروگرام خرید کر چلائے گئے جس کی وجہ سے سٹوڈیوز ویران اور رائٹرز بے کار ہوئے، ہم پی ٹی وی کی بحالی کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ حکومت پی ٹی وی کو نئے آلات کی فراہمی کیلئے بھی طریقہ کار وضع کر رہی ہے کیونکہ پی ٹی وی کے پاس ریکارڈنگ آلات بہت پرانے ہیں، 1974ء کے بعد سٹوڈیوز کیلئے جدید آلات اور مشینری ہی نہیں خریدی گئی، نئے آلات خریدنے کیلئے مالی وسائل کی فراہمی ایک چیلنج ہے لیکن ہم نے پلان بنایا ہے جس کے تحت پی ٹی وی کو جدید آلات اور مشینیں فراہم کی جائیں گی۔

سینیٹر جہانزیب جمالدینی اور دیگر کے سوالات کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمارے لئے تمام پی ٹی وی اسٹیشنز برابر کا درجہ رکھتے ہیں، پی ٹی وی میں خرابی 30 ماہ میں واقع نہیں ہوئی، سابق ادوار میں سیاسی بھرتیاں ہوئیں، پہلے کے مقابلے میں صورت حال میں اب بہتری ہو رہی ہے۔

سینیٹر بہرہ مند تنگی کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی کے واجبات 16 ارب روپے ہیں، 2020-21ء کیلئے دو ارب روپے پنشن کی مد میں ہیں، 75 کروڑ 10 لاکھ کی دیگر ادائیگیاں کرنی ہیں، 2008ء کے بعد جو ملازمین آئے ان کو پنشن نہ دینے کا فیصلہ ہوا تھا، شارٹ فال کے لئے ٹرسٹ بنا دیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here