کابینہ اجلاس: پہلی دفعہ 192 ملکوں کیلئے آن لائن ویزہ فراہمی کی منظوری

لاپتہ افراد کے حوالے سے خصوصی کمیٹی کو چھ ہفتوں میں اپنی سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت، مختلف شخصیات کو فراہم کردہ پولیس اسکواڈ کی تمام تفصیلات طلب

197

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ 192 ملکوں کیلئے پاکستانی ویزہ کو آن لائن کرنے کی سفارشات کی منظوری دیدی۔

منگل کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدرات وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیرِاعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مختلف شخصیات کو فراہم کردہ پولیس اسکواڈ کی تمام تفصیلات طلب کریں تاکہ اس نظام کو منظم کیا جا سکے، وزیرِاعظم کے مطابق غیرضروری پولیس سکواڈ ریاستی وسائل کا ضیاع اور حکومتی پالیسی کے خلاف ہے۔

کابینہ نے پرائم منسٹر ایجوکیشن ریفارمز پروگرام کے تحت سکولوں کے بچوں کیلئے حکومت کی جانب سے مہیا کردہ دو سو بسوں کو چلانے کے حوالے سے پالیسی کی منظوری دیدی۔ اس پالیسی کے تحت متعلقہ سکولوں کی سکول منیجمنٹ کمیٹی ان بسوں کا انتظام دیکھے گی۔

وزیراعظم عمران خان وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں (تصویر: پی آئی ڈی)

کابینہ کو گمشدہ افراد (مسنگ پرسنز) کے حوالے سے کمیٹی کے قیام سے متعلق آگاہ کیا گیا، کابینہ نے کمیٹی کو چھ ہفتوں میں اپنی سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کر دی۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت مسنگ پرسنز کے معاملے کے مستقل حل کیلئے پُرعزم ہے تاکہ موجودہ دورِ حکومت میں مسنگ پرسنز کا کوئی واقعہ نہ ہو۔

آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولیوشن ایکٹ 2017ء (تصفیے کے متبادل نظام کے حوالے سے قانون) کے تحت کابینہ نے مندرجہ ذیل غیر جانبدار (نیوٹرل) شخصیات پر مشتمل پینل کے قیام کی منظوری دیدی جن میں جسٹس (ر) انوارالحق، ایڈوکیٹ طاہر عباسی، شیرین عمران، حمیرا مسیح الدین، حافظ عرفات احمد، ہادیہ عزیز اور نتالیہ شامل ہے۔

اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے سی پیک کے 26 جنوری 2021ء کے فیصلوں اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 28 جنوری 2021ء کے فیصلوں کی بھی توثیق کر دی گئی۔ مذکورہ اجلاسوں میں وزیرِاعظم کے ریلیف پیکیج کے تحت بنیادی اشیائے ضروریہ کے ضمن میں حکومتی سبسڈی کے موثر نظام، زائرین منیجمنٹ پالیسی اور ٹیرف ریشنلائزیشن فار پاور سیکٹر جیسے اہم معاملات کے حوالے سے فیصلے کیے گئے تھے۔

اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے 21 جنوری 2021ء کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی۔  کابینہ نے فیڈرل میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ آرڈیننس 2020ء کے تحت بورڈ آف گورنرز کے ممبران کی دو خالی آسامیوں پر ڈاکٹر سمیح خان اور پروفیسر ڈاکٹر ارشد جاوید کو تعینات کرنے کی منظوری دیدی۔

کابینہ نے کراچی میں واقع ریلوے اراضی کی لیز کے معاملے پر سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد کے حوالے سے وزیرِ ریلوے، وزیر برائے نجکاری، مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات، سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری قانون پر مشتمل کمیٹی کے قیام کی منظوری دیدی۔

کابینہ نے قومی اسمبلی کی نشست این اے 45 کرم 1 اور صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 63 پر ضمنی انتخابات کے دوران فرنٹئیر کور خیبرپختونخواہ کی تعیناتی کی منظوری دیدی۔

کابینہ نے ویزہ پالیسی کو مزید سہل بنانے کے حوالے سے کابینہ کمیٹی کی سفارشات کی اصولی منظوری دیدی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ 192 ملکوں کے لئے پاکستانی ویزہ کو آن لائن کر دیا گیا ہے۔

پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہ ہماری حکومت آزادی صحافت پر مکمل یقین رکھتی ہے، میڈیا ایک ذریعہ ہے جو حکومتی اقدامات کو عوام تک پہنچاتے ہیں، کسی بھی حکومت میں یہ ذریعہ کسی بھی طرح سے متاثر ہو تو یہ ناپسندیدہ عمل ہوتا ہے۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ قائمہ کمیٹی سے بل پاس ہونے کے بعد پارلیمانی روایات کے مطابق ایوان میں منظور ہوتا ہے، صحافیوں سے متعلق بل قائمہ کمیٹی سے پاس ہو گیا ہے، قائمہ کمیٹی میں اپوزیشن بھی تھی لیکن ایوان میں جا کر اپوزیشن نے صحافیوں سے متعلق بل کو مسترد کر دیا، سینٹ کے الیکشن کے بعد اس سمیت دیگر اہم قانون سازی کی جائے گی ۔

انہوں نے کہا کہ سینٹ الیکشن اوپن بیلٹنگ کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے دوسری جانب آئینی ترامیم کی طرف بھی جا رہے ہیں، ہمارا مقصد اس بات تعین کرنا ہے کہ کون کس طرف کھڑا ہے۔ ماضی میں کوئی ایسی مثال نہیں کہ حکومت خود ایسا قدم اٹھائے، پیسوں کے ذریعہ سینٹ میں آنے کا راستہ ہمیشہ کیلئے بند کرنا ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم ہر ہفتے مہنگائی سے متعلق امور کا جائزہ لیتے ہیں، مہنگائی میں کمی ہوئی ہے، درآمد ہونے والی اشیاء کی قیمتیں عالمی سطح پر بڑھتی ہے تو اس کا اثر پاکستان میں عام صارف پر بھی پڑتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here