پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کالعدم قرار دلوانے کیلئے عدالت سے رجوع

پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کی وجہ سے عام آدمی پر بوجھ مزید بڑھ گیا ہے جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے، جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی لاہور ہائیکورٹ میں درخواست

195

لاہور: حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو لاہور ہائیکورٹ میں چلنج کر دیا گیا ہے۔

جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات میں حالیہ اضافے کو غیر قانونی قرار دے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کی وجہ سے عام آدمی پر بوجھ مزید بڑھ گیا ہے جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔

یاد رہے کہ اتوار 31 جنوری کو وفاقی حکومت نے نے آئندہ دو ہفتوں کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔

وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 70 پیسے فی لٹر، ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 88 پیسے فی لٹر، لائٹ ڈیزل 3 روپے فی لٹر اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے 54 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق قیمتوں میں اضافہ کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 111 روپے 90 پیسے فی لٹر، ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 116 روپے 7 پیسے، لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 79 روپے 23 پیسے جبکہ مٹی کے تیل کی نئی قیمت  80 روپے 19 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہو گا۔

خیال رہے کہ ایک ماہ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا دو بار جائزہ لیا جاتا ہے، اوگرا نے آئندہ 15 روز کیلئے پٹرول کی قیمت میں 12 روپے فی لٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے فی لٹر اضافے کی تجویز پیش کی تھی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here