حکومت نے مہنگائی کا ایک اور بم گرا دیا، پٹرول کے بعد گیس بھی مہنگی

اوگرا کے مطابق 11.8 کلوگرام کا گھریلو سلنڈر 122 روپے مہنگا ہو کر اب 1833 روپے، کمرشل سلنڈر 471 روپے اضافہ سے 7168 روپے میں ملے گا

353

اسلام آباد: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے محض ایک دن بعد حکومت نے عام آدمی پر مہنگائی کا ایک اور بم پھوڑ دیا ہے اور اس بار اوگرا نے فروری کیلئے ایل پی جی 10 روپے 37 پیسے مہنگی کر دی ہے۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق 11.8 کلوگرام کا گھریلو سلنڈر 122 روپے مہنگا ہو کر اب ایک ہزار 741 روپے کی بجائے ایک ہزار 833 روپے میں دستیاب ہو گا۔

اسی طرح کمرشل سلنڈر کی قیمت میں 471 روپے اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد فروری میں کمرشل سلنڈر چھ ہزار 697 روپے کی بجائے سات ہزار 168 روپے میں دستیاب ہو گا۔

نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ عالمی  مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمت 536 ڈالر سے بڑھ کر 574 ڈالر پر جا پہنچی ہے جس کی وجہ سے مقامی صارفین کیلئے گیس مہنگی کی گئی ہے، جبکہ ایل پی جی پروڈیوسر کمپنیوں  کیلئے قیمتوں میں آٹھ ہزار 870 روپے فی میٹرک ٹن اضافہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کالعدم قرار دلوانے کیلئے عدالت سے رجوع

دوسری جانب ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی ایشن پاکستان کے چئیرمین عرفان کھوکھر نے کہا ہے کہ گزشتہ سال دوران ایل پی جی کی مقامی پیداوار سات لاکھ 35 ہزار 460 میٹرک ٹن رہی تھی جبکہ صنعتوں کی ضروریات پوری کرنے کیلئے چار لاکھ 73 ہزار 900 میٹرک ٹن ایل پی جی درآمد کی گئی۔

انہوں ایل پی جی پر درآمدی لیوی میں اضافے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پہلے ہی 90 لاکھ کیوبک فٹ گیس کی کمی ہے، ایسے میں ٹیکسوں میں اضافہ ایل پی جی انڈسٹری کو مزید نقصان سے دوچار کر رہا ہے حالانکہ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز چھ ارب روپے ٹیکسوں کی مد میں ادا کر رہے ہیں۔

عرفان کھوکھر نے کہا کہ اب حکومت تافتان بارڈر کے راستے ایل پی جی درآمد کرنے پر غور کر رہی ہے مگر یہ فیصلہ سراسر نقصان کا باعث بنے گا اور ملک کے اندر صارفین کیلئے گیس مزید مہنگی کرنا پڑے گی۔

یاد رہے کہ 31 جنوری کو حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا جس کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 70 پیسے فی لٹر، ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں دو روپے 88 پیسے فی لٹر، لائٹ ڈیزل تین روپے فی لٹر اور مٹی کے تیل کی قیمت میں تین روپے 54 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا۔

قیمتوں میں اضافہ کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 111 روپے 90 پیسے فی لٹر، ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 116 روپے 7 پیسے، لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 79 روپے 23 پیسے جبکہ مٹی کے تیل کی نئی قیمت  80 روپے 19 پیسے مقرر کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ عوام اشیائے خورونوش اور ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے تنگ آ چکے ہیں مگر گزشتہ روز وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا ایک ٹویٹ میں کہنا تھا کہ جنوری کے دوران افراط زر کی شرح 5.7 فیصد سے کم رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جولائی 2018 میں جب پی ٹی آئی کی حکومت اقتدار میں آئی تو اس سے قبل سی پی آئی 5.8 فیصد اور افراط زر کی مجموعی شرح 7.6 فیصد تھی۔

وزیر اعظم عمران خان نے بھی کہا تھا کہ گرانی میں کمی کے حوالے سے ہماری کاوشیں بارآور ثابت ہو رہی ہیں۔ کنزیومر پرائس انڈیکس اورکور اِنفلیشن آج اس سطح سےنیچے ہے جس پر یہ ہمارے حکومت سنبھالنے کےوقت تھی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے اپنی معاشی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ محتاط رہیں اور یقینی بنائیں کہ مہنگائی پر قابو برقرار رہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here