’ہارٹی کلچر کی برآمدات میں 6 ارب ڈالر اضافہ، 15 لاکھ نوکریاں پیدا کی جا سکتی ہیں‘

ہارٹی کلچر کی عالمی تجارت 200 ارب ڈالر سے زیادہ، لیکن پاکستان اس سے خاطر خواہ اضافہ نہیں کر سکا، تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور پراسیسنگ کا معیار بڑھانے کی ضرورت ہے: نائب صدر پاکستان بزنس فورم چوہدری احمد جواد

193

اسلام آباد: پاکستان بزنس فورم کے نائب صدر چوہدری احمد جواد نے کہا ہے کہ ہارٹی کلچر وژن 2030 ء سے قومی برآمدات میں 6 ارب ڈالر اضافہ ہو گا، آئندہ پانچ سال میں 15  لاکھ افراد کو روزگار ملے گا جبکہ دس سال میں تیس لاکھ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

درحقیقت پاکستان ہارٹی کلچر کی عالمی مارکیٹ سے خاطر خواہ اضافہ نہیں کر سکا، 2019ء کے دوران اس شعبہ کی عالمی تجارت 200 ارب ڈالر سے زیادہ رہی ہے۔

چوہدری احمد جواد نے سرکاری خبر رساں ایجنسی “اے پی پی” سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مصر کی زرعی شعبہ کی پائیدار ترقی کی حکمت عملی پاکستان کیلئے سودمند ثابت ہو سکتی ہے جس کے تحت مصر نے ہارٹی کلچر کے شعبہ کی برآمدات کے فروغ پر توجہ دیتے ہوئے ہارٹی کلچر کی اپنی برآمدات کو تین ارب بیس کروڑ ڈالر تک توسیع دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصر مالٹے، انگور، آلو، سٹرابری اور پیاز کی برآمدات سے بھاری زرمبادلہ کما رہا ہے اور یہ برآمدات روسی فیڈریشن، یورپی یونین اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کو بھیجی جا رہی ہیں۔ کووڈ-19 کی موجودہ عالمی صورت حال کے تناظر میں دنیا بھر میں بھرپور وٹامنز کی حامل مختلف پھلوں، سبزیوں اور بالخصوص کینو کی کھپت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو وبا کے اثرات کو کم کرنے اور قوت مدافعت کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود پاکستان ان مواقع سے استفادہ کرنے سے قاصر ہے۔

احمد جواد نے کہا کہ پاکستان ترشادہ پھل پیدا کرنے والے دس بڑے ممالک میں شامل ہے تاہم پیداوار کے مقابلہ میں برآمدات کا تناسب کم ہے، پاکستان میں ہارٹی کلچر کے شعبہ میں پیدا ہونے والا ایک بڑا پھل کینو ہے جو اپنے معیار اور ذائقہ کی وجہ سے بڑی برآمدات میں شامل ہونے کی بھرپور استعداد رکھتا ہے لیکن ایران اور افغانستان کو کینو کی برآمدات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے اور پراسیسنگ کے معیار میں بہتری کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا گزشتہ مالی سال کے دوران کورونا وائرس کی وجہ سے سپلائی اور ٹرانسپورٹ کے مسائل کے باوجود پاکستان کی پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات میں 12.5 فیصد اضافہ ہوا ہے اور 73 کروڑ ڈالر زرمبادلہ کمایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ حکومت کے موثر اقدامات کے نتیجہ میں گزشتہ مالی سال میں پھلوں کی برآمدات 3.8 فیصد بڑھی ہیں جبکہ سبزیوں کی برآمدات میں 28 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

احمد جواد نے مزید بتایا کہ ترقی یافتہ ممالک کیلئے کینو کی برآمدات میں صرف 2.6 فیصد ہدف رکھا گیا ہے کیونکہ ان ممالک میں بغیر بیج کے کینو کی طلب ہے اور کینو و ترشاوہ پھلوں کی عالمی تجارت میں بغیر بیج کے پھلوں کی طلب 61 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی کینو کے بڑے درآمدی ممالک میں ایران، متحدہ عرب امارات، بحرین، اومان، کویت، سعودی عرب، قطر، انڈونیشیا، ملائشیا، فلپائن، افغانستان، ہالینڈ، برطانیہ، سنگاپور روس اور ویتنام سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک شامل ہیں۔

احمد جواد نے کہا کہ روس، ویتنام اور انڈونیشیا نے پاکستانی کینو کیلئے صفر فیصد ٹیرف کی پیش کش کی ہے لیکن کوٹا اس وقت جاری کیا گیا جب سیزن اختتام کے قریب ہے۔ اس کے باوجود ہم نے حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ انڈونیشیا کو پام آئل کی خریداری کے بدلے کینو برآمد کیا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں احمد جواد نے بتایا کہ ملک میں کینو کی قیمت 50 فیصد کم ہوئی ہے تاہم ہارٹی کلچر وژن 2030ء کے تحت موثر اقدامات کے ذریعے پاکستان کی صرف دو سال کے قلیل عرصہ کے دوران پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات دو ارب ڈالر تک بڑھائی جا سکتی ہیں جبکہ نو سال میں برآمدات کو 6 ارب ڈالر تک توسیع دی جا سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here