ٹویٹر کا نیا فیچر ’برڈ واچ‘ کیا ہے؟

208

سان فرانسسکو: ٹویٹر نے غلط اور گمراہ کن اطلاعات کی روک تھام کے لیے برڈ واچ کے نام سے نیا فیچر متعارف کرا دیا ہے۔

امریکی میڈیا کمپنی بزنس انسائیڈر کے مطابق ٹوئٹر نے کہا ہے کہ اس نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جھوٹی اور گمراہ کن اطلاعات کے مسئلے پر قابو پانے کی کوششوں کے تحت ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

ٹویٹر نے سیاسی رہنمائوں، صحافیوں کے اکائونٹس کی سکیورٹی بڑھا دی

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹویٹر اکائونٹ مستقل بند

بھارتی پروپیگنڈا، پاکستان کا فیک نیوز پھیلانے والے ٹویٹر اکائونٹس بند کرنے کا مطالبہ

برڈ واچ نامی اس فیچر کے ذریعے صارفین کو ٹویٹس میں غلط اطلاعات کی نشاندہی کرنے میں مدد ملے گی اس کے ساتھ ہی صارفین ایسی اطلاعات کے سیاق و سباق کے بارے میں اپنی رائےبھی لکھ سکیں گے اور یہ رائے یا نوٹ عالمی ناظرین کے لیے دستیاب ہو گا اور ٹویٹس پر نمایاں طور پر نظر بھی آئے گا۔

ٹوئٹر نے بتایا کہ اس کے تجرباتی پراجیکٹ کے لیے امریکا میں بعض شرکاء کا اندراج کیا گیا ہے، وہ ایک علیحدہ ویب سائٹ پر اپنے نوٹ شیئر کریں گے جہاں ٹویٹر کے مین انٹرفیس کے ساتھ منسلک ایک ڈراپ ڈان مینو سے وہ اس طرح کے ٹوئٹس کو فلیگ کر سکیں گے۔

ٹوئٹر کے پروڈکٹس کے نائب صدر کیتھ کولمین نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ جب جھوٹی خبریں پھیل رہی ہوں تو ان کا تیزی سے جواب دینے کے لیے یہ طریقہ کارگر ثابت ہو گا۔‘

کولمین نے مزید کہا کہ کمپنی غلط اطلاعات کی روک تھام کے لیے ایک موثر اور کمیونٹی پر مبنی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی تھی تاکہ ایسی معلومات کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

برڈ واچ کو ایک ایسے وقت پر متعارف کرایا گیا ہے جب ٹویٹر کو اپنے پلیٹ فارم کے ذریعہ گمراہ کن اطلاعات میں مسلسل اضافہ کے لیے نکتہ چینی کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔ کمپنی نے ایسی اطلاعات پر قابو پانے کے لیے متعدد فیچر لانچ کیے ہیں جس میں ٹویٹس پر مینی پولیٹیڈ میڈیا کا لیبل اور ری ٹویٹ کے متعلق ایک اضافی فیچر بھی شامل ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here