حکومت کا ڈیجیٹل اشتہارات کیلئے پالیسی متعارف کروانے کا عندیہ

قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کی وزارت اطلاعات و نشریات کو اشتہارات اور میڈیا گروتھ کیلئے جامع پالیسی بنانے کی ہدایت

332

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی ہے کہ سرکاری اشتہارات کے حوالے سے میڈیا پلان بنایا جائے اور میڈیا کی گروتھ کے حوالے سے جارحانہ منصوبہ بندی اور جامع پالیسی لائی جائے۔

گزشتہ روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت اطلاعات ونشریات سے قومی اشتہارات کی پالیسی پر بریفنگ، پی ٹی وی سپورٹس کے کام کے طریقہ کار اور مستقبل میں نشریات و پروگرام میں بہتری کی منصوبہ بندی کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ قومی اشتہارات کی پالیسی پر وزارتِ اطلاعات و نشریات کام کر رہی ہے اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ میٹنگ کی جا رہی ہے، حتمی مسودہ تیار ہونے پر قائمہ کمیٹی کو آگاہ کر دیا جائے گا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ قومی اشتہارات پالیسی میں میڈیا ورکرز کے مفادات کو مزید محفوظ بنایا جا رہا ہے اور علاقائی میڈیا دفاتر کو مزید تحفظ دیا جائے گا، ڈیجیٹل اشتہارات پالیسی متعارف کروائی جا رہی ہے۔ اشتہاراتی ایجنسیوں کے کردار کو قومی دھارے میں لایا جا رہا ہے اور پی آئی ڈی کے ذریعے سرکاری اشتہارات کی ادائیگی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

میڈیا کے بزنس ماڈل کی وہ خامی جس سے فائدہ اٹھا کر حکومت اسے کنٹرول کر رہی ہے

محسن نقوی کا سی این این پرڈیوسر سے پاکستان کا میڈیا ٹائیکون بننے تک کا سفر 

سونے کے کاروبار اور سکینڈلز سے میڈیا ایمپائر تک،ARY  گروپ کے مشکوک عروج کی کہانی

قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ڈیجیٹل میکنزم پر کام ہو رہا ہے، پالیسی میں اشتہارات کا بڑا حصہ ہے، پرنٹ میڈیا کے لیے علیحدہ قواعد و ضوابط ہیں، اشتہارات کے لیے 25 فیصد علاقائی کوٹہ ہے۔ اے پی این ایس سے رجسٹر ایجنسیوں کو پی آئی ڈی اشتہارات دیتی ہیں۔

سینیٹرز کے سوالات کے جواب میں حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ کلاسیفایڈ اشتہارات کی 100 فیصد ادائیگی پی آئی ڈی کرتا ہے، ڈسپلے اشتہارات کے بل کی 85 فیصد ادائیگی اخبارات، ٹی وی، ریڈیو کو پی آئی ڈی کرتی ہے جبکہ 15 فیصد ایجنسیوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔

یہ بھی بتایا گیا کہ ٹی وی اشتہارات کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایت پر ریٹس کو چار کیٹیگریز میں تقسیمِ کیا گیا ہے، کیٹیگری وَن کے اشتہارات کے ریٹس ایک  لاکھ 40 ہزار روپے، کیٹیگری ٹو میں ایک لاکھ، کیٹیگری تھری میں 75 ہزار اور کیٹیگری فور میں 50 ہزار روپے مقرر کیے گئے ہیں۔

سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ علاقائی چینلز کو بھی پہلی کیٹیگری میں شامل کرنا چاہیے ان کے دیکھنے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے، ایک موثر میکنزم کی ضرورت ہے جو ان مسائل کا حل نکال سکے۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اشتہارات کے ریٹ سرکاری اور پرائیوٹ چینلز پر یکساں ہیں، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سرکاری اشتہارات نان پرائم ٹائم میں نہیں چلتے، میڈیا پلان بنایا جائے، مجموعی طور پر جامع پالیسی اور لوگوں میں شعور اور میڈیا کی گروتھ کے حوالے سے حکومت کو جارحانہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ انٹرٹینمنٹ چینلز پر سرکاری اشتہارات نہیں چلتے، پی ٹی وی، ایف ایم ریڈیو پر سرکاری اشتہارات چلائے جائیں، حکومت موثر مارکیٹنگ پلان لائے۔ میڈیا کی گروتھ  رُکی ہوئی ہے اور اس کو بہتر بنایا جائے۔

سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ وزارتِ اطلاعات و نشریات کے پاس ایک ایسا تحقیق کا شعبہ ہونا چاہیے جو لوگوں سے پوچھے کہ کیا دیکھنا چاہتے ہیں، ڈی جی پی آئی او نے کہا کہ پیمرا کے پاس ریٹنگ کا میکنزم موجود ہے جو مانیٹرنگ کرتا ہے۔

سینیٹر خوش بخت شجاعت نے کہا کہ ریٹنگ کے چکر میں پوری قوم کو تباہ کر دیا ہے، علاقائی چینلز کے پروگراموں میں اخلاقیات نظر آتی ہے مگر ریٹنگ والے چینلز کو گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنا محال ہو چکا ہے۔ سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ ہماری نسلوں کو تباہ کیا جا رہا ہے اور ٹی وی چینلز پر بیہودہ گیم شو کے ذریعے بیہودگی پھیلائی جا رہی ہے۔ انٹرٹینمنٹ کا معیار بہت گر چکا ہے، گھروں میں دیکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ اشتہارات کی پالیسی اور اس کا استعمال ہمیشہ سے تمام حکومتیں کرتی رہی ہیں، ہم سب اس گناہ میں برابر کے شریک ہیں، اس پالیسی کو قتل و غارت کا ٹول بنایا گیا ہے۔ حکومتیں کبھی ایک اخبار کو اشتہارات سے نواز دیتی ہیں اور کبھی اس کی تقسیم تک روک لی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینلز کی ریٹنگ سیاستدانوں کی صوابدید پر ہوتی ہے۔ ہم سب کو ایسی پالیسی بنانی چاہیے جو کسی بھی حکومت کے ہاتھوں ٹول کے طور پر استعمال نہ ہو جس پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا اظہار رائے پر کوئی پابندی نہیں ہے، کچھ چینلز اور اخبارات خاص ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور میں نے کبھی بھی کسی چینل اور اخبارات کے اشتہارات روکنے کا حکم نہیں دیا، وہ ادارے جو حکومت پر تنقید کرتے ہیں ان کو بھی اشتہارات دیے گئے ہیں، پی ٹی آئی کی حکومت روایتی حکومت نہیں ہے نئی پارٹی نئی سوچ کے ساتھ حکومت چلا رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here