کون سی ویکسین کورونا کی تمام اقسام کیخلاف موثر ہے؟

کورونا وائرس کی نئی اقسام تیزی سے مختلف ممالک میں پھیل رہی ہیں، یہ ابتدائی کورونا وائرس کی اصل حالت سے کہیں زیادہ آسانی اور تیزی سے انسانی خلیوں کو متاثر کر سکتا ہے

93

لندن، نیویارک: امریکی دوا ساز کمپنی کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مہلک کورونا وائرس کے تدارک کیلئے تیار کردہ موڈرنا ویکسین برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں پائے جانے والے وائرس کی نئی اور زیادہ متعدی اقسام کے خلاف بھی کام کرتی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق کورونا وائرس کی نئی اور متعدی اقسام پر لیبارٹری میں کیے جانے والے تجزیوں اور تجربوں سے بھی بات سامنے آئی ہے کہ موڈرنا ویکسین میں موجود وائرس کی اینٹی باڈیز نئی اقسام کو پہچان سکتی ہیں اور ان کا مقابلہ کرسکتی ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ کورونا وائرس کی نئی اقسام تیزی سے مختلف ممالک میں پھیل رہی ہیں، گزرتے وقت کے ساتھ وائرس میں تبدیلیاں آئی ہیں یا اس نے اپنی خصوصیات تبدیل کی ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ عالمی وبا کی شکل اختیار کرنے والے ابتدائی کورونا وائرس کی اصل حالت سے کہیں زیادہ آسانی اور تیزی سے انسانی خلیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ برطانیہ میں سامنے آنی والا نئی قسم کا کورونا وائرس، جو گزشتہ برس ستمبر میں سامنے آیا تھا، انسانی جسم میں 70 فیصد زیادہ تیزی سے منتقل ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر میں تیار کی جانے والی موجودہ کورونا ویکسینز ابتدائی وائرس کے اعتبار سے تیار کی گئیں ہیں۔

امریکی کمپنی فائز کی تیار کردہ ویکسین کے بارے میں پہلے سے کچھ ایسے نتائج حاصل ہوئے ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ برطانیہ میں موجود کورونا وائرس کی نئی قسم کے خلاف کام کرتی ہے۔

موڈرنا کی تیار کردہ ویکیسن کے تحقیق کے لیے محققین نے ایسے آٹھ افراد کے خون کے نمونے حاصل کیے ہیں جنھیں موڈرنا ویکیسن کی دونوں خوراکیں لگ چکی ہیں تاہم اس کے نتائج کا تفضیلی جائزہ لینا ابھی باقی ہے۔

لیکن اس تجزیہ سے اس بات کی جانب اشارہ ملتا ہے کہ اس ویکیسن سے وائرس کے خلاف پیدا ہونی والی قوت مدافعت وائرس کی نئی اقسام کو پہچان کر اس کے خلاف کام کرتی ہے۔ انسانی جسم کے مدافعتی نظام کے ذریعے تیار کردہ اینٹی باڈیز وائرس کو بے اثر کرکے خلیوں میں داخل ہونے سے روکتی ہیں۔

ان افراد کے خون کے نمونوں کو جب وائرس کی نئی اور تبدیل شدہ اقسام کے سامنے لایا گیا تاکہ یہ وائرس کو بے اثر کرنے کے لیے اینٹی باڈیز تیار کر لے تو اس کے نتائج مثبت رہے البتہ یہ جنوبی افریقہ میں کورونا وائرس کی سامنے آنی والی قسم کے خلاف اتنی موثر نہیں تھی جتنی برطانیہ کی قسم کے خلاف ہے۔

دوا ساز کمپنی موڈرنا کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ جنوبی افریقہ میں سامنے آنے والی کورونا وائرس کی قسم کے خلاف تحفظ زیادہ جلدی ختم ہو سکتا ہے۔

برطانیہ کے واروک میڈیکل سکول کے وائرس ماہر پروفیسر لارنس ینگ کا کہنا تھا کہ یہ بات تشویشناک ہے۔ موڈرنا اب اس بات کا تجربہ کر رہی ہے کہ اس کی تیار کردہ ویکسین کی تیسری خوراک لگانا شاید جنوبی افریقہ میں سامنے آنی والی کورونا وائرس کے قسم کے خلاف فائدہ مند ثابت ہو۔

وائرس ویکسین تیار کرنے والی دوا ساز کمپنی موڈرنا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سٹیفن بینسل کا کہنا ہے کہ کمپنی کا خیال ہے کہ وائرس کے ارتقا کے ساتھ ہی اس پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔

برطانیہ کے صحت کے حکام نے پہلے ہی نیشنل ہیلتھ سروسز کو موڈرنا کی ویکسین کے استعمال کی منظوری دیتے ہوئے اس کو لگانا شروع کر دیا ہے، یہ ویکسین بھی فائزر کی تیار کردہ ویکیسن کی طرح کام کرتی ہیں جس کی پہلی ہی برطانیہ میں لگانے کی اجازت دی جا چکی ہے۔ برطانیہ میں 63 لاکھ سے زیادہ افراد کو پہلے ہی یا تو فائزر یا آسٹرا زینیکا ویکسین کی پہلی خوراک لگائی جاچکی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here