خلیجی ممالک میں جانے والے ورکرز سے طبی ٹیسٹوں کی مد میں اوورچارجنگ کا انکشاف

80

اسلام آباد: پاکستان اوورسیز ایمپلائیمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن (پوئپا) نے گلف کوآپریشن کونسل (جی سی سی) کے منظورشدہ میڈیکل سینٹرز کا پاکستانی ورکرز سے طبی ٹیسٹوں کے نام پر اوورچارجنگ کا انکشاف کیا ہے۔

پوئپا نے جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ جی سی سی کی منظورشدہ میڈیکل سینٹرز ایسوسی ایشن (جی اے ایم سی اے) جو پاکستان میں 45 طبی مراکز کے انتظامی معاملات چلارہی تھی نے پاکستانی ورکرز کے لیے سعودیہ روانگی سے قبل اپنے سے الحاق شدہ طبی مراکز سے انکے طبی ٹیسٹوں کو کرانا لازمی قرار دیا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ “لیکن طبی مراکز ہر ٹیسٹ کے عوض نو ہزار روپے چارج کررہے ہیں جبکہ رجسٹریشن کے نام پر الگ سے 2000 روپے بھی چارج کیے جارہے ہیں، دیگر لیبارٹریز طبی ٹیسٹوں کی مد میں آدھی رقم چارج کر رہی ہیں”۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ طبی مراکز صرف ورکرز سے پیسے بٹورنے کا ذریعہ ہیں کیونکہ انکے سرٹیفکیٹ خلیجی ممالک میں قبول نہیں کیے جاتے، ملازمین کو سعودی عرب میں پہنچنے کے بعد یہی ٹیسٹ دوبارہ سے کروانا پڑتے ہیں۔

پوئپا نے حکومت سے جی سی سی کے منظور کردہ طبی مراکز پر نظررکھنے کے لیے ایک ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کی درخواست کی، ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا کہ ان میں سے کسی بھی طبی مرکز نے اپنے ٹیکس ریٹرنز بھی جمع نہیں کرائے۔

مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے 2012 میں ان طبی مراکز پر بھاری جرمانے عائد کیے تھے، تاہم ان طبی مراکز نے عدالت سے حکمِ امتناع لے لیا تھا۔

پوئپا نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے پاکستان میں سعودی سفارتخانے کو میڈیکل ٹیسٹوں سے متعلق معاملات کو چلانے کےلیے ہدایات جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔ پوئپا نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیسٹوں کے نام پر غریب مزدوروں کا مالی استحصال کرنے والے طبی مراکز کے خلاف نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور آئندہ ایسے بھیانک کاروبار کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ “پاکستانی حکومت کو سعودی عرب کی مدد سے باہمی اتفاقِ رائے سے اس سنجیدہ مسئلے پر اس کا حل نکالنا چاہیے تاکہ ان غریب مزدوروں کو اس قسم کے مافیا کے ہاتھوں لٹنے سے بچایا جا سکے”۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here