متحدہ عرب امارات تل ابیب میں سفارت خانہ کھولنے کو تیار

107

دبئی: متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے اسرائیل کے شہر تل ابیب میں اپنا سفارت خانہ کھولنے کی منظوری دے دی ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق تل ابیب میں سفارت خانہ کھولنے کی منظوری متحدہ عرب امارات کے وزیراعظم شیخ محمد بن راشد  المکتوم کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں دی گئی۔

اسرائیل نے اپنا دارالحکومت مقبوضہ بیت المقدس میں قائم کر رکھا ہے اور وہ اس متنازع شہر کو اپنا دائمی دارالحکومت قرار دیتا ہے جبکہ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری اسرائیل کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتی۔

جنوری 2020ء میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا اور امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کیا تھا۔

چند ایک اور ممالک نے بھی اپنے سفارت خانے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کیے ہیں جبکہ بیشتر ممالک تل ابیب ہی کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہیں اور انہوں نے وہیں اپنے سفارت خانے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: 

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے پر رضامند

متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی سیاحوں کیلئے ویزے کھول دئیے

سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ابتدائی معاہدہ

دریں اثنا وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون نے اپنے اسرائیلی ہم منصب کو بتایا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ اسرائیل کے ساتھ علاقائی سلامتی کے امور اور معاہدوں پر اتفاق رائے سے کام کرے گی۔

انہوں نے اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات کے حوالے سے بتایا کہ ملاقات میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے والے انتظامات کی کامیابی کو مزید فروغ دینے سمیت آئندہ مہینوں میں شراکت کو بڑھانے کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے 13 اگست 2020ء کو اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات استوار کرنے کے تاریخی امن معاہدے کا اعلان کیا تھا اور پھر اس کی روشنی میں 29 اگست کو ایک فرمان جاری کیا تھا جس کے تحت اسرائیل کے معاشی بائیکاٹ سے متعلق یو اے ای کے قانون کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے 15 ستمبر 2020ء کو وائٹ ہاؤس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے شدہ معاہدۂ ابراہیم پر دست خط کیے تھے۔ یو اے ای نے مصر اور اردن کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں کے کوئی ربع صدی کے بعد معمول کے تعلقات استوار کیے تھے۔

اس امن معاہدے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے، تجارتی اور اقتصادی تعاون کے فروغ، شہری ہوابازی کے شعبے میں روابط بڑھانے کے لیے مختلف سمجھوتے طے پا چکے ہیں۔

ان میں ایک سمجھوتے کے تحت یو اے ای اور اسرائیل نے ہفتے میں 28 پروازیں چلانے پر اتفاق کیا تھا اور دونوں ملکوں نے گذشتہ ماہ دوُہرے ٹیکسوں سے بچنے کے لیے بھی ابتدائی سمجھوتے پر دستخط کیے تھے،اس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان سرمایہ کاری کی حوصلہ  افزائی اور فروغ تھا۔

ایک اور سمجھوتے کے تحت اماراتی شہری اب بغیر ویزا 90 روز کے لیے اسرائیل جا سکتے ہیں تاہم اماراتی حکومت نے اسرائیلی شہریوں کے بغیر ویزا ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے، ایسا کورونا وائرس کی وجہ سے عارضی طور پر کیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here