ایڈ نہیں ٹریڈ، پاکستان کا نئی امریکی انتظامیہ کو پیغام

مالی امداد یا قرضے کی بجائے امریکا سے تجارتی تعلقات کے فروغ اور سرمایہ کاری میں اضافے کے خواہاں ہیں، پاکستان

189

اسلام آباد: امریکہ میں پاکستانی سفیر اسد مجید خان نے کہا ہے کہ اسلام آباد صدر جوبائیڈن کی نئی انتظامیہ کے ساتھ دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کا خواہشمند ہے۔

ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے اسد مجید خان نے کہا کہ پاکستان اب امریکہ سے امداد نہیں بلکہ تجارت اور سرمایہ کاری پر مبنی مضبوط تعلقات چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا دیگر ممالک کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن کے لیے کام کر رہے ہیں، امریکہ بھی چاہتا ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ اب ہمارے لیے ‘ڈو مور’ وغیرہ جیسے سوالات کی گنجائش نہیں، اب درست اقدام اٹھانا وقت کی ضرورت ہے”۔ نئی امریکی انتظامیہ کو جب زمینی حقائق کا پتا چلے گا تو انہیں پاکستان کی کوششوں کا احساس ہو گا۔

اس سے قبل صدر جوبائیڈن نے منگل کو جنرل لائیڈ جے آسٹن کو سیکرٹری دفاع نامزد کیا ہے جنہوں نے پاکستان کو امن کی کوششوں کے حوالے سے اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ ملٹری تعلقات کو بحال کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ خطے میں مثبت سوچ رکھنے والے پاکستان جیسے ملک کی حوصلہ افزائی کریں گے جبکہ منفی کرداروں کی نفی کرتے ہیں جو افغان امن عمل میں بگاڑ پیدا کرنے کے درپے ہیں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ روابط بڑھانے کیلئے تیار ہے، پاکستان اسے طویل المدتی موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے جو دونوں ممالک کے مابین کثیرالجہتی تعلقات کے فروغ کیلئے موثر ثابت ہو سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here