برطانیہ میں رہائش کے لیے  پچاس لاکھ یورپی شہریوں کی درخواستیں

تقریباََ 49 لاکھ یورپی شہریوں میں سے 44 لاکھ کو مستقبل میں برطانیہ میں رہنے کی اجازت، 34 ہزار کی درخواستیں مسترد

134

لندن: برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد سے اب تک وہاں آباد یورپی باشندوں میں سے تقریباََ 50 لاکھ افراد برطانیہ ہی میں مستقل رہائش کے اجازت ناموں کے لیے درخواستیں دے چکے ہیں۔

جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ تقریباََ 49 لاکھ یورپی شہریوں میں سے اب تک 44 لاکھ درخواست دہندگان کو یہ اجازت دی جا چکی ہے کہ وہ مستقبل میں بھی برطانیہ میں آباد رہ سکتے ہیں جبکہ اب تک تقریبا 34 ہزار یورپی شہریوں کی درخواستیں مسترد کی جا چکی ہیں۔

برطانیہ علیحدگی سے قبل یورپی یونین کے ایک رکن کے طور پر یورپی داخلی منڈی کا بھی رکن تھا اور یونین کی رکن ریاستوں کے شہریوں کو وہاں بلا روک ٹوک آنے جانے، ملازمت اور رہائش اختیار کرنے کی بھی اجازت تھی لیکن اب برطانیہ کے یورپی مشترکہ داخلی منڈی سے اخراج کے بعد سے یہ سہولت ختم ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

برطانیہ کا 2030ء تک پٹرول و ڈیزل گاڑیوں پر پابندی کا فیصلہ

یورپی یونین اور برطانیہ کے سربراہان کے تجارتی معاہدہ پر دستخط

بریگزٹ معاہدے کے تحت برطانیہ میں رہائش پذیر یورپی باشندوں اور یونین کے رکن ممالک میں مقیم برطانوی شہریوں کو یہ اختیار دیا گیا کہ اگر وہ چاہیں تو جہاں ہیں وہیں مستقل رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور اس سلسلے میں برطانیہ اور یورپی شہری اس طرح درخواستیں دے سکتے ہیں کہ انہیں مستقبل میں بھی وہی حقوق حاصل رہیں گے جیسے ماضی میں حاصل تھے جس کے لیے ان باشندوں کو برطانوی یا یورپی ممالک کے حکام کو رواں سال 30 جون 2021ء تک یہ درخواستیں دینا ہوں گی۔

بریگزٹ ڈیل کے مطابق یورپی یونین کے رکن ممالک میں آباد برطانوی شہری تو آئندہ بھی اپنے میزبان یورپی ممالک میں مستقل بنیادوں پر مقیم رہ سکتے ہیں تاہم برطانیہ میں بریگزٹ کے بعد بھی مستقل رہائش کا حق ان ممالک کے شہریوں کو حاصل ہے جو یورپی یونین کے کسی رکن ملک، یورپی اقتصادی برادری میں شامل کسی ریاست یا پھر سوئٹزرلینڈ کے شہری ہوں۔

ان یورپی باشندوں کے لیے لازمی شرط بس یہی ہو گی کہ وہ بریگزٹ سے پہلے سے برطانیہ میں باقاعدہ طور پر رہائش پذیر رہے ہوں اور بڑے جرائم میں ملوث نہ رہنے سمیت معمول کی چند دیگر قانونی شرائط بھی پورا کرتے ہوں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here