چھ ماہ میں پاکستان میں آٹھ ہزار 766 پک اپ گاڑیاں فروخت

142

اسلام آباد: پاکستان میں پک اَپ گاڑیوں کی فروخت میں جاری مالی سال کے پہلے نصف میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 32.39 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

آل پاکستان آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے دسمبر 2020ء تک کی مدت میں ملک میں کل آٹھ ہزار 766 یونٹس پک اَپ گاڑیاں فروخت ہوئیں جو گزشتہ سال اسی مدت میں فروخت ہونے والی گاڑیوں سے 32.39 فیصد زیادہ ہیں۔ گزشتہ سال کی پہلی ششماہی میں چھ ہزار 621 یونٹ پک اَپس کی فروخت ہوئی تھی۔

مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں سوزوکی راوی کے  چار ہزار 140 یونٹس، ٹویوٹا ہائی لکس کے تین ہزار 620 یونٹ، جے اے سی کے تین ہزار 620 یونٹ، ڈی میکس کے 141 یونٹس اورہونڈائی پورٹر کے 557 یونٹس فروخت ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے: 

سال 2020ء: ملک بھر میں کتنی کاریں فروخت ہوئیں؟

پہلی ششماہی میں پاکستان میں کتنے زرعی ٹریکٹر فروخت ہوئے؟

چھ ماہ میں پاکستان میں کتنے موٹرسائیکل، رکشے فروخت ہوئے؟

پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں کاروں کی فروخت میں 13 فیصد جبکہ سالانہ اعتبار سے 15 فیصد اضافہ ہوا، دسمبر 2019 کے مقابلے میں دسمبر 2020 میں گاڑیوں کے 13 ہزار 870 یونٹس فروخت کیے گئے۔

جاری مالی سال 2020-21ء کی پہلی ششماہی کے دوران ملک میں زرعی ٹریکٹروں کی فروخت میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 42.87 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا دسمبر 2020ء کی مدت میں ملک میں 21 ہزار 765 یونٹس زرعی ٹریکٹروں کی فروخت ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 42.87 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران 15 ہزار 234 یونٹس زرعی ٹریکٹروں کی فروخت دیکھنے میں آئی تھی۔

اسی طرح پاکستان آٹو موبائلز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا دسمبر 2020ء کے دوران موٹر سائیکلز اور رکشوں کی فروخت کا حجم 9 لاکھ 50 ہزار 871 یونٹس تک بڑھ گیا جبکہ گزشتہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں میں 7 لاکھ 99 ہزار 820 یونٹس فروخت ہوئے تھے۔

گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں موٹر سائیکلز اور رکشوں کی فروخت میں ایک لاکھ 51 ہزار 51 یونٹس یعنی 18.88 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here