پہلی ششماہی کے دوران پاک افغان دوطرفہ تجارت میں 17 فیصد کمی

جولائی سے دسمبر 2020ء تک پاک افغان تجارتی حجم 52 کروڑ 99 لاکھ 70 ہزار ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 62 کروڑ 10 لاکھ 91 ہزار ڈالر کے مقابلہ میں 17.15 فیصد کم ہے

162

اسلام آباد: پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کے حجم میں جاری مالی سال کے پہلے نصف میں گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلہ میں 17.15 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

سٹیٹ بینک کی جانب سے دستیاب اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے دسمبر 2020ء تک مدت میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 52 کروڑ 99 لاکھ 70 ہزار ڈالر ریکارڈ کیا گیا، یہ شرح گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 62 کروڑ 10 لاکھ 91 ہزار ڈالر کے مقابلہ میں 17.15 فیصد کم ہے۔

ایس بی پی کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں افغانستان کو پاکستانی برآمدات کا حجم 45 کروڑ ڈالر سے زائد ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 54 کروڑ 31 لاکھ 20 ہزار ڈالر کے مقابلہ میں 20.63 فیصد کم ہے۔

دسمبر 2020ء میں افغانستان کو آٹھ کروڑ 21 لاکھ 20 ہزار ڈالر کی برآمدات کی گئیں جبکہ  دسمبر 2019ء میں افغانستان کو پاکستانی برآمدات کا حجم 11 کروڑ ڈالر سے زائد رہا تھا۔

سٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال کے پہلے نصف میں افغانستان سے درآمدات میں 2.49 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مالی سال کے دوران افغانستان سے درآمدات کا حجم سات کروڑ 97 لاکھ 30 ہزار ڈالر ڈالررہا جو کہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں سات کروڑ 77 ہلاکھ 90 ہزار ڈالر تھا تھا۔

دسمبر 2020ء میں افغانستان سے دو کروڑ 98 لاکھ 50 ہزار ڈالر ڈالر کی درآمدات کی گئیں جبکہ دسمبر 2019ء میں افغانستان سے ایک کروڑ 66 لاکھ 20 ہزار ڈالر کی درآمدات ریکارڈ کی گئی تھیں۔

دوسری جانب فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے افغانستان، چین، ایران اور انڈیا کے ساتھ ساتھ وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت بڑھانے کی غرض سے موجودہ اور نئے بارڈر سٹیشنز کو فعال بنانے پر زوردیتے ہوئے حکومت سے صنعت کاروں اور ایکسپورٹرز کو زیادہ سے زیادہ مراعات دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر محمد زاہد شاہ نے کراس بارڈر ٹریڈز پر سمیڈا کے زیرِ اہتمام منعقدہ ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی پسماندگی دور کرنے اور صوبے میں صنعتی و معاشی ترقی کیلئے کراس بارڈر ٹریڈ وقت کی اہم ضرورت ہے اور افغانستان، ایران، چین اور انڈیا کے ساتھ باہمی تجارت بڑھانے کے لئے تمام بارڈر سٹیشن کھولنے چاہیئے تاکہ کاروبار کو وسعت مل سکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here