پاک برطانیہ تجارتی حجم 10 ارب پاﺅنڈ تک بڑھانے کا عندیہ

196

اسلام آباد: کراچی میں برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر اور ٹریڈ ڈائریکٹر فار پاکستان مائیک نتھاویریانکس نے کہا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کی باہمی تجارت کو 10 ارب پاﺅنڈ سالانہ تک بڑھایا جائے گا۔

اپنے ایک بیان میں رطانوی ٹریڈ ڈآئریکٹر نے کہا کہ دونوں ممالک کے تجارتی و معاشی رابطوں کے فروغ سے پاکستان اور برطانیہ کی ترقی و خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت متحدہ عرب امارات میں پانچ ہزار برطانوی کمپنیاں کام کر رہی ہیں جبکہ 22 کروڑ سے زائد آبادی کے حامل پاکستان میں صرف 150 برطانوی ادارے خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

پہلی ششماہی، پاکستان نے مصالحہ جات کی برآمدات سے کتنے کروڑ ڈالر کمائے؟

پہلی ششماہی، براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 30 فیصد کی نمایاں کمی

برطانیہ کے ٹریڈ ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک (پاکستان اور برطانیہ) کے معاشی اور تجارتی رابطوں میں اضافہ سے پاک برطانیہ باہمی تجارت کو 10 ارب پاﺅنڈز سالانہ تک توسیع دی جائے گی جو اب محض تین ارب پائونڈ ہے۔

واضح رہے کہ پہلی بار جاری مالی سال 2020-21ء کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستان کی برطانیہ کو برآمدات ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں۔

12 جنوری کو وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق دائود نے اس حوالے سے اپنے ایک ٹویٹ میں بتایا تھا کہ یکم جولائی سے دسمبر 2020ء کے اختتام تک پاکستان نے برطانیہ کو ایک ارب دو کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی مصنوعات برآمد کیں جو گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی کی 85 کروڑ 20 لاکھ کی برآمدات سے 21 فیصد زیادہ ہیں۔

مشیر تجارت نے برآمدات کا ہدف عبور کرنے پر برآمدکنندگان کو مبارک دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہی کی کوششوں سے پاکستان برطانوی مارکیٹ میں بڑا شئیر حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ انہوں برطانیہ میں وزارت تجارت کے ٹریڈ آفیسرز کی بھی تعریف کی اور کہا کہ وہ پاکستانی برآمدکنندگان اور کاروباری براداری کی سہولت کیلئے برآمدات کے مزید مواقع تلاش کریں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here