ایل این جی کی ادائیگیاں نہ کرنے پر پی ایس او کیخلاف عالمی عدالت میں مقدمہ دائر

پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے بھی گنور کو رقوم کی ادائیگی روک دی، اس کے خلاف بھی عالمی عدالت میں مقدمہ دائر ہونے کا امکان

686

لاہور: لکویفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) سپلائی کرنے والی عالمی کمپنی گنور (Gunvor) نے پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) کے خلاف ایک عالمی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ایس او نے گنور کے ساتھ ایل این جی فراہمی کیلئے مختصرالمدتی معاہدہ کیا تھا جس کے تحت 100 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پانچ سال کیلئے فراہم کی جانی تھی۔

بعد ازاں پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے بھی مختصر اور طویل مدت کیلئے ایل این جی کے حصول کیلئے ٹینڈر جاری کر دئیے، ان میں سے ایک کنٹریکٹ گنور جبکہ دوسرا طویل المدتی کنٹریکٹ ایک اطالوی کمپنی ای این آئی نے حاصل کر لیا جس نے برنٹ کی سب سے کم 13.37 فیصد قیمت کی پیشکش کی۔

اس کے برعکس پی ایس او ساڑھے چار سال تک گنور کو پورٹ چارجز کی مد میں مقررہ حد سے زائد ادائیگیاں کرتی رہی، جس پر پی ایل ایل کی انتظامیہ نے سوالات اٹھائے، اس پر پی ایس او نے ایک عالمی لاء فرم سے قانونی رائے لی۔

پی ایل ایل نے 9 نومبر 2018ء کو گنور کی جانب سے پروویژنل انوائسز میں بےضابطگیوں پر اسے نوٹس جاری کر دیا، دو سال تک معاملہ سرد خانے میں پڑا رہنے کے بعد 10 اگست 2020ء کو دوبارہ اس مسئلے کو گنور کے ساتھ اٹھایا گیا۔

پی ایل ایل نے جب پی ایس او کی جانب سے گنور کو زائد ادائیگیوں کی نشاندہی کی تو پی ایس او نے ایل این جی سپلائی کے ادائیگی کرنا روک دی جو اس کے مطابق مقررہ رقم سے زائد تھی، نتیجتاََ گنور نے پی ایس او کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پی ایس او نے گنور کے ساتھ جو ایل این جی سپلائی کا پانچ سالہ معاہدہ کر رکھا تھا وہ دسمبر 2020ء میں ختم ہو گیا جبکہ پی ایل ایل کا مذکورہ کمپنی کے ساتھ پانچ سالہ معاہدہ دسمبر 2021ء  میں اختتام پذیر ہو گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ایل ایل نے بھی گنور کو زائد رقوم کی ادائیگی روک دی تھی جس کے نیتجے میں ممکن ہے گنور پی ایل ایل کے خلاف بھی عالمی عدالت میں مقدمہ دائر کر دے۔

پی ایل ایل اطالوی کمپنی ای این آئی کو بھی زائد ادائیگیاں کرتی رہی ہے، زائد ادائیگیوں کا ایشو پی ایل ایل بورڈ کے علم میں بھی لایا گیا تھا جس نے فیصلہ کیا کہ اطالوی کمپنی کو ادائیگیاں روک دی جائیں۔

دونوں عالمی کمپنیوں کو پاکستانی کمپنیوں کی جانب سے ادائیگیوں کی رسیدوں پر نظرثانی کی گئی کیونکہ فریقین نے تسلیم کیا کہ مقررہ حد سے زائد ادائیگیاں کی جاتی رہی ہیں۔

مزید یہ کہ پی ایس او کی جانب سے گنور کو پاکستان میں ایل این جی سپلائی کرنے سے بلیک لسٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here