سندھ ہائیکورٹ کا دریائے سندھ پر نیا پل تعمیر کرنے کا حکم

452

سکھر: سندھ ہائی کورٹ سکھر بنچ نے دریائے سندھ پر سکھر روہڑی جڑواں شہروں کو ملانے کے لیے نئے پل کی تعمیر کا حکم دے دیا ہے۔

گزشتہ روز سندھ ہائی کورٹ سکھر بنچ نے جسٹس آفتاب احمد گڑڑ کی سربراہی میں ارکان قومی اسمبلی سید خورشید احمد شاہ اور نعمان اسلام شیخ کی پٹیشن پر سماعت کی، درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا تھا کہ دریائے سندھ پر سکھر اور روہڑی جڑواں شہروں کو ملانے والا تاریخی پل اپنی عمر پوری کر چکا ہے، اس وقت خستہ حالی کا شکار ہے اس لیے متبادل پل کی تعمیر کا حکم جاری کیا جائے۔

درخواست گزاروں کے مطابق انہوں نے نئے پل کا منصوبہ بنایا تھا جس کے لیے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں فنڈز بھی مختص کیے گئے تھے، وہ فنڈز لیپس ہو رہے ہیں۔

عدالت نے سماعت کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے پرانے پل کے متبادل پل تعمیر کرنے کا حکم دے دیا، متعلقہ اداروں کو دو ماہ کے اندر فزیبلٹی رپورٹ تیار کرکے وزارت مواصلات کے پاس جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔

یہ بھی حکم دیا کہ متبادل پل کی تعمیر کے لیے فنڈ ریوائز کیا جائے جو اب لیپس نہیں ہونے چاہیئں۔ سماعت کے موقع پر عدالت میں این ایچ اے و دیگر متعلقہ اداروں کے حکام پیش ہوئے۔

جسٹس آفتاب احمد گورر کی سربراہی میں سکھر بینچ نے پاکستان ریلویز سیکرٹری، ڈپٹی سپریٹنڈنٹ ریلویز سکھر، صوبائی ثقافتی سیکرٹری اور  ڈپٹی کمشنر سکھر کو آئندہ سماعت تک اپنا جواب جمع کرانے کے لیے نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

سکھر کے رہائشی ایڈووکیٹ سہیل میمن نے بھی دریائے سندھ پر سکھر اور روہڑی کو ملانے کے لیے نئے پُل کی تعمیر کے لیے درخواست دائر کی تھی، سہیل میمن نے درخواست میں کہا تھا کہ مذکورہ پُل ملک کا تاریخی ورثہ ہے لیکن بدقسمتی سے کئی سالوں کی لاپرواہی کی وجہ سے خستہ حالی کا شکار ہے۔

واضح رہے کہ لوہے اور اسٹیل سے بنا لینسڈاں پل 1889ء میں تعمیر کیا گیا تھا جس کی مدت سو سال رکھی گئی تھی مگر یہ پل اب تک 132 سال پورے کر چکا ہے۔ اس وقت بھی اس پر روہڑی اور سکھر کے درمیان ٹریفک کی روانی جاری ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here