کورونا کے باوجود پنجاب کی ٹیکس آمدن میں 9 فیصد اضافہ

216

اسلام آباد: رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران پنجاب میں ٹیکس وصولیاں 9 فیصد بڑھ گئیں، کووڈ۔19 کے باعث صنعتکار و تاجر برادری اور ٹیکس دہندگان کو دی گئی متعدد مراعات کے باوجود صوبہ کا ٹیکس ریونیو بڑھنا خوش آئند ہے۔

پنجاب کے محکمہ خزانہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ کے مقابلہ میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں ٹیکسز کی شرح میں کمی اور صنعتکار و تاجر برادری اور ٹیکس دہندگان کو دی گئی متعدد مراعات کے باوجود صوبہ پنجاب میں سیلز ٹیکس محصولات میں 45 فیصد جبکہ گاڑیوں کی رجسٹریشن پر وصول کی گئی فیس کی مد میں 46 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

پنجاب کابینہ نے سنگل نیشنل کریکولم کی منظوری دیدی

کیپٹل مارکیٹ ٹیکس اصلاحات کیلئے ایف بی آر کی مشاروتی کمیٹی قائم

وزارت تجارت نے نان ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے 21 کروڑ 30 لاکھ کے ریفنڈز کی منظوری دیدی

مزید برآں رواں مالی سال کے بجٹ میں غیرمنقولہ جائیداد، فارم ہاﺅسز اور پرتعیش گھروں پر ٹیکس وصولیوں کے ہدف کے مقابلہ میں جولائی تا دسمبر 2020ء میں 63 فیصد محصولات اکٹھے کئے گئے ہیں۔

اسی طرح پنجاب ریونیو اتھارٹی نے مجموعی بجٹ کے 60 فیصد جبکہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے سالانہ بجٹ کے 53 فیصد اور بورڈ آف ریونیو نے 48 فیصد کے مساوی ٹیکسز وصول کئے ہیں۔

ٹیکس ریونیو میں اضافہ ک حوالے سے وزیر خزانہ پنجاب ہاشم جوان بخت نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باوجود صوبے کی آمدن میں 9 فیصد اضافہ خؤش آئند ہے۔

کابینہ کمیٹی برائے ریسورس موبیلائزیشن کے چوتھے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہاشم جوان بخت نے کہا کہ ٹیکس ریٹس میں کمی کے باوجود خدمات پر سیلز ٹیکس میں 45 فیصد، موٹر وہیکلز رجسٹریشن میں 46 فیصد، جبکہ غیرمنقولہ جائیداد، فارم ہاؤسز اور لکژری گھروں پر ٹیکس وصولی میں 63 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت درست سمت میں اقدامات اٹھا رہی ہے۔

وزیر خزانہ پنجاب نے کہا کہ پنجاب ریونیو اٹھارٹی اور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے مثبت انداز میں ٹیکس ہدف پورا کیا لیکن بورڈ آف ریونیو کا ٹیکس ہدف منفی رہا جس کی وجہ کورونا وائرس کے دوران معاشی سرگرمیوں میں کمی ہے۔

ہاشم جوان بخت نے بورڈ آف ریونیو کو کارکردگی بہتر کرنے اور ٹیکس ہدف پورا کرنے کی ہدایت کی، یہ ٹیکس ہدف محکمہ بی او آر کی جانب سے خود ہی طے کیا گیا تھا، انہوں نے محکمے کو زرعی انکم ٹیکس کو بہتر کرنے کا حکم دیا۔

اس سے قبل، فنانس سیکرٹری نے ریسورس موبیلائزیشن کمیٹی کے پہلے تین اجلاسوں میں اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے بتایا کہ واسا کا خود انحصار بزنس ماڈل منظوری کے لیے کابینہ کو بھیجا جا چکا ہے، محکمہ خزانہ کو مذکورہ ماڈل سے 6.2 ارب روپے کی بچت ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ای سروس سینٹر جیسے ماڈل کی منظوری کے باضابطہ اقدامات کیے گئے ہیں، غیرمنقولہ جائیداد پر ٹیکس اصلاحات کے لیے ورکنگ گروپ تشکیل دے دیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here